فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 14214
(56) مسجد کی بالائی منزل پرلڑکیوں کا مدرسہ
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 07 July 2015 11:38 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا مسجد کی بالائی منزل پرلڑکیوں کا مدرسہ قائم کیاجاسکتاہے جبکہ اس منزل پرجمعہ کی نماز بھی ادا ہوتی ہے ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسجد کی بالائی منزل بھی مسجد کےحکم میں ہے لہذا جس طرح مسجد کی نچلی اورپہلی منزل میں لڑکیوں کا مدرسہ قائم کرنا جائز نہیں ، اسی طرح  مسجد کی بالائی منزل پربھی لڑکیوں کامدرسہ بنانا جائز نہیں بالائی منزل کے مسجد ہونے کی دلیل یہ ہے :

وصلی ابوھریرہ علی ظھر المسجد بصلوۃ الامام (أخرجہ ابن ابی شیبۃ وسعید بن مصور وذکرہ البخاری تعلیقا۔ صحیح البخاری: باب الصلوۃ فی الطوح والمتبر ج۱ص۵۴،۵۵)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد کی چھت پرنماز پڑھی امام کی اقتداجب کہ امام نچلی منزل میں نماز پڑھا رہاتھا۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد کی بالائی منزل بھی مسجد ہی ہے۔ لہٰذا لڑکیوں کے مدرسہ کے لیے اس کو استعمال کرنا جائز نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص309

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)