فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14190
(354) السلام علیکم کی بجائے صرف سلام کہنا جائز ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 June 2015 02:53 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بیکی فیکس سے زین العابدین دریافت کرتے ہیں

‘‘ السلام علیکم کی بجائے کچھ لوگ ‘‘ سلام علیکم’’ کہتے ہیں اور کچھ صرف سلام اور جواب میں سلام کہا جاتا ہے کیا یہ جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

‘‘سلام علیکم’’ کہا جاسکتا ہے مگر اسے عادت نہیں بنانا چاہئے ۔ جو الفاظ تواتر سے ثابت ہیں وہ ‘‘ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ’’ ہیں۔ صرف ‘‘ السلام علیکم’’ بھی درست ہے لیکن صرف ‘‘ سلام’’ کہنا یہ درست نہیں بلکہ ناجائز ہے۔ یہ ماڈرن بدعت ہے جو مسلمانوں میں پھیل رہی ہے اس سے بچنا چاہئے۔ قرآن کہتا ہے کہ جب کسی کو سلام کہو تو اچھے الفاظ سے کہو اور جواب اس سے بہتر دو اور وہ بہتر الفاظ سنت سے یہی ثابت ہیں ‘‘ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ’’

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص556

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)