فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14185
(349) کسی غیر مسلم کو کافر کہنا کہاں تک درست ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 June 2015 01:08 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی کو کافر کہنا (چاہے وہ عیسائی یا یہودی ) کہاں تک درست ہے؟

کسی مسلمان کو کافر یا منافق کہنے والے کے بارےمیں آپ کی کیا رائے ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جہاں تک عیسائی اور یہودی کوکافر کہنے کا تعلق ہے تو اس بارےمیں خود قرآن نے ان کو صاف طورپر کافر کہاہے۔ ظاہر ہے جنہوں نے ہمارے رسول ﷺ کی رسالت کا نہ صرف انکار کیا بلکہ اس کے بدترین دشمن بھی ہیں ان کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ قرآن پاک میں ہے

﴿لَقَد كَفَرَ‌ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ المَسيحُ ابنُ مَر‌يَمَ...﴿١٧﴾... سورةالمائدة

جنہوں نے مسیح بن مریم کو خدا کا درجہ دیدیا انہوں نے کفر کیا۔

﴿لَقَد كَفَرَ‌ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ ثالِثُ ثَلـٰثَةٍ...﴿٧٣﴾... سورةالمائدة

وہ لوگ بھی کافر ہیں جنہوں نے اللہ کو تین میں سے تیسرا کہا۔

باقی کسی مسلمان کو کافر یا منافق کہنا ہرگز جائز نہیں۔ جب کوئی مسلمان اپنے کفر کا اعتراف کرے یا وہ شریعت کے کسی بنیادی عقیدے کا انکار کردے یا کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال کردے تو ایسی صورت میں اسے کافر کہا جاسکتاہے لیکن صریح کفر کے بغیر محض کسی عملی کمزوری کی وجہ سے ہم کسی کو کافر نہیں کہہ سکتے۔ ہم یہاں اس شخص کےبارےمیں رسول اللہ ﷺ کےفرمان نقل کرتے ہیں جو مسلمان کو کافر کہتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا‘‘ جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہہ کرپکارتا ہے تو دونوں سےایک اس کفر کا مستحق ہوگا۔اگر اس نے کفر کیا تو ٹھیک ورنہ نہ بات کہنے والے پر صادق آئے گی۔’’ یعنی اس کا اپنا ایمان ضائع ہوگا۔

دوسری حدیث حضرت ابوذر غفاری ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتےسنا‘‘ جس نےکسی کو کافر کہا یااللہ کادشمن کہا اور وہ درحقیقت ایسا نہیں تو پھر اس کا وبال کہنے والے پر لوٹ آئے گا۔’’

ان دونوں احادیث سےمسلمان کو کافر کہنے والے کی حیثیت متعین ہوجاتی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص551

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)