فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14176
(340) ٹیوب کے ذریعہ بچہ پیدا کرنے میں شریعت اسلامی کا موقف کیا ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 June 2015 11:49 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ٹیوب کے ذریعہ نطفہ منتقل کرنے کے بعد جو بچہ پیدا ہوگا اس کے بارےمیں شریعت اسلامیہ کا موقف کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ٹیوب بی بی کی خبر سے بعض ذہنوں میں یہ شبہ پیدا ہونے لگا ہے کہ شاید جدید ٹیکنالوجی نے انسان کے بنانے پر قدرت حاصل کرلی ہے حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور شیطانی وسوسہ ہے۔ اس بارے میں قرآن مجید کا جو ارشاد ہے اس کےبعد کسی قسم کا شک وشبہ کرنا دین اسلام سے ناواقفیت اور جہالت ہے۔

﴿أَفَرَ‌ءَيتُم ما تُمنونَ ﴿٥٨ ءَأَنتُم تَخلُقونَهُ أَم نَحنُ الخـٰلِقونَ ﴿٥٩﴾... سورةالواقعة

کہ مادہ منویہ کے انتقال کے بعد پیدائش و تخلیق تمہارے اختیار میں ہے یا ہمارے اختیار میں وہ جرثومے جو اللہ نے مرد کے منویہ میں رکھے ہیں وہ کبھی ناکارہ اور ضائع ہوجاتے ہیں اور کبھی ان سے کچھ پیدا ہی نہیں ہوتا جس کو عقمہ کہاجاتا ہے۔

اب اگر جدید علوم کے ماہرین نے کسی مرد کے منویہ کو کسی آلے کے ذریعے حاصل کرکے اسے ٹیوب کے ذریعے اس کی شرعی بیوی میں منتقل کردیا ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے بچہ پیدا ہوگیا تو اسے جھٹلانے کی گنجائش ہے اور نہ ضرورت ۔ اس لئے جب تک شرعی حدود کے اندر کوئی جدید تجربہ کیا جائے گا ہم اسے ناجائز یا حرام نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ سب کچھ اس عقل اور ان ذرائع کو استعمال کرنے کے بعد کیاگیا جو اللہ تعالیٰ نے انسان کےلئے پیدا کئے ہیں۔ ہاں اگر یہی عمل غیر بیوی یا غیر خاوند میں کیا جائے توہم اسے یقیناً حرام کہیں گے۔ لیکن اگر شرعی شادی کے بعد علاج کے طور پر ایسا کیا گیا تو ہم اسے حرام قرار دینے کے لئے دلیل نہیں رکھتے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص540

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)