فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14174
(338) کیا اسقاط حمل جائز ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 June 2015 11:44 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دارنگنن سے ڈاکٹر صلاح الدین لکھتے ہیں

(۱)میں جس جگہ پر ہوں وہاں بہت سارے لوگوں کے لئے بھی ہے اور علیحدہ باورچی خانہ بھی جہاں چند لوگ اپنی پسند کے مطابق کھانا پکاتے ہیں ۔ ان چند لوگوں  میں کچھ اور بھی ہیں جو غیر ذبیحہ گوشت یہاں تک کہ لحم خنزیر بھی پکاتے ہیں۔ ضروریات کے برتن اسپتال والون کی طرف سے مہیا ہیں۔ سوال یہ ہے کہ میں ان برتنوں  کو (جیسے  پین ’دیگچی ’پلیٹ ’چمچی وغیرہ ) صرف صابن یا دیگر واشنگ لیکوڈ سے دھو کر استعمال کرسکتا ہوں کہ نہیں؟

(۲)بازاروں میں ملنے والی خوشبو کی چیزیں پرفیومز اور ڈیوڈرنیٹ اور اسپرے وغیرہ کا استعمال شرعاً جائز ہے کہ نہیں؟ اور اگر یہ سبھی ناجائز ہیں تو کیوں ؟

(۳)فیملی پلاننگ اسلام کی نظر میں جائز ہے کہ ناجائز ؟

(۴)موجودہ سائنسی نقطہ  نظر سے ہماری بہت سی لاعلمیوں کا ازالہ ہوچکا ہے یا ہو رہا ہے اور ان سبھی کے زیر اثر فیملی پلاننگ کو اپنانے کا ذریعہ بھی بدلتا جارہا ہے۔ مگر بنیادی طور پر یہ سبھی اس لئے ہورہا ہے کہ ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اولاد کا ہونا اور نہ ہونا سبب کے زیر اثر ہے اور ہم ان اسباب میں ترمیم کرسکتے ہیں اور اس ترمیم سے مختلف نتیجہ نکل سکتا ہے ۔ پھر یہ بھی ہم نے اصولاً مان لیا ہے کہ دنیا کی آبادی میں جس طرح سے اضافہ ہوا ہے اس شرح سے پیداوار میں اضافہ نہیں ہوا ہے اور اگر پیداوار میں اضافہ ہوابھی ہے تو ایک محدود عرصے کے بعد یہ پیداوار ختم ہوجائے گی جب کہ انسانی آبادی میں اضافہ(مختلف لڑائیوں کے باوجود مختلف بیماریوں اور مختلف قدرتی ذرائع جیسے زلزلہ )ہوتا ہی رہے گا ۔ اس لئے انسانی آبادی کے اضافے اور محدود و قدرتی وسائل و ذرائع کے درمیان ایک حد تک توازن (بیلنس ) کا ہونا ضروری ہے تو اسلام کی نظر میں یہ نظریہ کہاں سے غلط ہے اور کیوں ہے؟ اور پھر اس کا حل اسلام کیا پیش کرتا ہے؟

(۵)فیملی پلاننگ کے طریقوں میں سے کون سا طریقہ اپنایا جاسکتا ہے جیسے

(الف) عورتیں جو گولیاں ہر دن کھاتی ہیں اور جس سے حمل قرار ہی نہیں پاتا ہے۔اصولاً کیا یہ غلط ہے؟

(ب)مرد مانع حمل طریقوں کو اپناتے ہیں (میں اس کی وضاحت سے پرہیز کررہا ہوں ) کیا یہ غلط ہے؟

(ث)مرد اور عورت جو اپنی اپنی نس بندی کراتےہیں ’ کیا یہ حرام ہے اور اس کا اپنانا غلط ہے ؟ اگر غلط ہے تو کیوں ؟

(۶)ڈاکٹر کی حیثیت سے کئی مرتبہ اسقاط حمل کرنا او رکرانا پڑا ہے۔ اگر آپ سرجن ہیں تو دنیا کے ہر کونے میں (سوائے سعودی عرب ) غیرقانونی حمل کو حاملہ کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے (جیسا کہ میں نے اس ملک میں ۱۳’۱۴ برس کی بچیوں کو دیکھا ہے) سماجی دباؤ کے اثرسے (جیسا کہ ا س ملک میں اور دوسرے ملکوں میں بھی ) اور کبھی کبھی  معاشی دباؤسے بھی (جیسا کہ بہت مرتبہ شادی شدہ عورتیں صرف اس بنا پر اسقاط کرانے آتی ہیں کہ وہ اس غیر مطلوبہ حمل کو غربت کی بناپر  اپنا رہی ہیں )اسقاط کراناپڑتا    جو اسقاط کے وقت An Aesthe Tist ہے۔ تو کیا اسقاط کرانے والا سرجن یا وہ  بے ہوشی کی دوا دیتا ہے اسلام کی نظر میں مجرم ہے اور گناہ  اور حرام کاری میں ملوث ہے؟ کیا ڈاکٹر کو اسلامی نظرئیے کے مطابق ایک سرجن یا بے ہوش کرنے والے کی حیثیت سے اس طرح کے کام میں یعنی اسقاط کے لئے یا دیگر آپریشن کرنے سے انکار کردینا چاہئے۔ میں نے رومن کیتھولک ڈاکٹروں کی ان کاموں کو کرنے سے انکارکرتے دیکھا ہے مگر یہاں یہ بھی معلوم ہوناچاہئے کہ اپنے وطن سے دور کام سیکھنے کی غرض سے اور پھر مجبوری کے طور پر ان کاموں کو کرنا کیسا ہے؟

(۶)بہت دنوں پہلے تھوڑی دیر کےلئے بی بی سی پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں برطانیہ کے نامور سائنس دان اور عیسائی علماء نے حصہ لیا تھا اور جہاں تک مجھے یاد ہے اس بحث میں مسئلہ یہ تھا کہ دوران حمل انسانی زندگی (بلکہ غیرانسانی زندگی بھی )واقعتاً کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ کیا زندگی کی شروعات عورت کے پیٹ ہی میں رہنے سے شروع ہوجاتی ہے یا کہ پیدا  ہونے کے بعد؟

اور اگر زندگی پیٹ ہی میں شروع ہوجاتی ہے تو کب سے ؟ کوئی کہتا تھا کہ جب بچہ ماں کی پیٹ میں ۷ ماہ کا ہو تب سے کوئی کہتا تھا کہ بچہ جب ۲۸ دنوں کا ہوجائے یعنی جب سے ہاتھ پیر کا سانچہ نمودار ہو تب سے ۔ کوئی کہتا تھا ۲۸ دنوں سے پہلے بھی یعنی جب مرد اور عورت کا نطفہ آپس میں مل کر اس نئے بچے کی زندگی کی پہلی اینٹ بنادیں تب سے اور یہ بھی کہ آخر مرد کی منی میں جو کروڑوں کیڑے زندہ متحرک ہیں اس کو بھی کیوں نہ اس زندگی سے منسلک کیا جائے جو اگر فیملی پلاننگ کے زیر اثر مانع حمل طریقوں کو اپنانے کی غرض سے برباد ہوجاتےہیں۔ میں اس بحث کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا مگر سوال یہ ہے کہ موجودہ سائنسی علم کے مطابق زندگی کی شروعات کو جہاں سے مانا گیا ہے (شاید حاملہ عورت  کے پیٹ میں ۳ ماہ کی عمر) اس سے پہلے اگر اسقاط حمل کیا اور کرایا جائے تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے کہ نہیں؟ اور اگر اجازت نہیں ہے تو کیوں ؟ اور اسلامی مسئلہ کے مطابق زندگی کی شروعا ت ماں کے پیٹ میں کب سے شروع ہوتی ہے؟

(۷)کلام پاک میں (جس آیت شریفہ میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ افلاس کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔۔۔) جس ڈر اور خوف سے اولاد کو قتل کرنے کا ذکر ہے کیا وہ موجودہ فیملی پلاننگ کے طریقوں (جیسے عورتوں  کا گولیاں کھانا۔ TUBALLIGATION VASECTOMTY2   

بلکہ اسقاط تین ماہ سےقبل)پر بھی لاگو ہوتا ہے؟ یا یہ اس گناہ کے سلسلے میں کہاگیا ہے جس میں عرب اپنی لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیا کرتے تھے؟

(۸)اس ملک میں اگر کوئی مریض مرجائے اور اس کو دفن کرنے کی بجائے جلایا جائے تو ایسی صورت حال میں اسپتال کے ڈاکٹروں کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کرنا پڑتا ہے کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ فلاں شخص مرگیا ہے اور اس سرٹیفکیٹ کے بدلے میں ڈاکٹر کو کچھ رقم ہسپتال کی طرف سے فیس کے طور پر ملتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیس کے طور پر ملی رقم کا حاصل کرنا جائز ہے؟

براہ کرم ان تمام سوالات کے جواب دے کر ممنون فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(۱)کفار یا غیر مسلم کے برتین صابن وغیرہ سے دھوکر استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

بخاری شریف کی حدیث ہے کہ حضرت ابو ثعلبہ نے نبی کریمﷺ سے دریافت کیا کہ

انا بارض قوم اهل کتاب افناکل فئ أئیتهم ؟ قال ان وجدتم غیرها فلا تاکلوا فیها وان لم  تجدوا فاغسلوها وکلوافیها۔

(بخاری کتاب الذبائح والصید باب مااصاب لاسعراض بعرضہ ۵۴۸۸’۵۴۹۶ مسلم الصید و الذبائح باب الصید بالکلاب المعلمۃ)

کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں ہیں تو کیا ان کے برتنوں میں کھاسکتے ہیں؟ اس پر رسول اللہ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے برتن حاصل کرسکو تو پھر ان کے  برتن میں نہ کھاؤ۔ اور اگر تمہیں الگ سے برتن میسر نہ ہوں تو ان کے برتنوں کو دھو کر ان میں کھا سکتے ہو۔

مسند احمد اور ابوداؤد کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ صحابی نے یہ بھی کہا کہ وہ لوگ اپنے برتنوں میں خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں اور شراب پیتےہیں تو ہم ان کے برتین یا ہانڈیوں کو کس طرح استعمال کریں ؟ تو اس کے جواب میں بھی حضور اکرمﷺ نے فرمایا  کہ اپنی سے اچھی طرح ان کے برتن صاف کرلو اور پھر ان میں پکاؤ بھی اور پیو

بھی۔ اس لئے اگر اپنے الگ سے برتن میسر نہ ہوں تو غیر مسلم کے برتن کو صاف کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

(۲)بازاروں میں ملنے والی ایسی خوشبو جس میں کسی حرام چیز کی آمیزش نہیں’ا س کا استعمال جائز ہے اور اگر کسی چیز کے بارے میں دلیل سے ثابت ہوجائے کہ اس میں حرام چیز کا استعمال ہوا ہے تو پھر جائز نہیں۔

(۳۔۴)فیملی پلاننگ کی شرعی حیثیت کے بارے میں  صراط مستقیم کے ساتویں شمارے بابت جنوری ۸۴ءمیں مفصل جواب شائع ہوچکا ہے۔ (اس کی کاپی آپ کو بھیجی جارہی ہے)خلاصہ یہی ہے کہ کسی عذر یا مجبوری کی وجہ سے افرادی طور پر منصوبہ بندی جائز ہے(جیسا کہ عورت کی صحت یا بچوں کی صحت وغیرہ کی حفاظت کا مسئلہ ہے)عام حالات میں اس کی ہرگز اجازت نہیں ہے اور نہ ہی قانونی طورپر اسے رائج کیا جاسکتا ہے۔

جہاں تک آبادی کے اضافے کی دلیل کا تعلق ہے تو یہ اسلام میں قابل قبول نہیں۔ رزق اور پیداوار کے اصل ذرائع اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ انسانوں کو ان اسباب و ذرائع کو تلاش کرنے اور محنت کرنے کی تلقین کی گئی ہے نہ کہ آبادی پر کنٹرول کرنے کی۔ رزق کی کمی کے خوف سے اولاد کو قتل کرنا یا کسی نفس کے دنیا میں آنے سے روکنے کی کوشش کرنا اس کی نص قرآنی سے حرمت ثابت ہے۔ اس لئے کہ یہ مومن کے بنیادی عقیدہ توحید کے خلاف ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کے خالق حقیقی اور رازق کامل ہونا کی نفی ہوتی ہے۔

درج ذیل آیات قرآنی ملاحظہ ہوں:

(الف)اپنی اولادوں کو رزق میں کمی کے ڈر سے قتل نہ کرو اور انہیں رزق تو ہم دینے والے ہیں۔ (انعام:۵۱)

(ب)اپنی اولادوں کو قتل نہ کرو رزق میں کمی کے خوف سے ’انہیں بھی اور تمہیں بھی رزق ہم دیتے ہیں۔ (اسراء:۳۱)

(ج)کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سےرزق دے۔ (فاطر:۳)

(د)اگر وہ رزق روک لے تو تمہیں رزق کون دے گا۔ (ملک:۳۱)

یہ اور اس طرح کی متعدد آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رزق کے  خوف سے اولاد کے بارے میں کوئی پابندی جائز نہیں۔ بلکہ یہ سوچ ہی بنیادی اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔انسانی آبادی کے اضافے اور قدرتی وسائل وذرائع کے درمیان برابری نہ آپ کے ذمے ہے اور نہ ہی یہ انسان کے بس میں ہے ۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ قدرتی وسائل محدود ہیں۔ اللہ کی زمین میں انسانی ضروریات کے لئے لامحدود وسائل ہیں۔ علم و فن کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان وسائل کی دریافت بھی ہورہی ہے ۔ انسان اور خاص طور پر مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ آبادی پر کنٹرول کے طریقے معلوم کرنے اور اس پر محنت  کرنے کی بجائے قدرتی وسائل کی دریافت اور ذرائع  رزق کے حصول کے لئے اپنی علمی و فنی صلاحیتیں صرف کریں۔ اس میں قدرت کا کوئی قصور نہیں اگر انسان اللہ کی نعمتوں کو تلاش ہی نہیں کرتا  چند ممالک یا چند افراد اگر دولت اور ذرائع پیداوار پر قبضہ کرلیتےہیں اور باقی بھوکے مرنے لگ جاتےہیں تو اس ظلم کےخلاف آواز بلند کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا بھی انسانوں کا فرض ہے ۔ یہ تو خالص مغربی یہودی سرمایہ دار انہ نظام کی چال ہےکہ ساری دنیا کا سرمایہ سمیٹ کر اپنے قبضے میں کرلو اور پھر غریبوں کی غربت دور کرنے کےلئے خاندانی منصوبہ بندی کا ڈھونگ رچادو۔

آج دنیا میں ایسے ممالک ہیں بلکہ ایسے افراد ہیں کہ صرف ایک کی دولت اورپیداوار سے ساری دنیا کے غریبوں کی مدد کی جاسکتی ہے اور پھر ان کی برابری کی کوششیں بھی کس قدر ناقص ہیں۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ آبادی بہت زیادہ ہوگئی ہے اس لئے دنیا کو بھوک  سے بچانے کے لئے اس پر کنٹرول کیا جائے اور پھر کچھ عرصے بعد کہتے ہیں کہ آبادی میں بہت کمی ہوتی جارہی ہے اس لئے بچوں کی پیدائش کی شرح میں اضافے کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں برطانوی اخبارات میں یورپین پارلیمنٹ کی طرف سے یہ اپیل شائع ہوئی ہے کہ بچوں کی شرح پیدائش میں اضافہ کیا جائے اور اب یہ کہنا پڑا کہ

A NATION WITH OUT ENOUGH CHILDREN

WOULD BE A SAD NATION

میں ۱۳ اپریل کے ایک اخبار کا تراشہ آپ کو بھیج رہا ہوں جس میں یورپین پارلیمنٹ نے یورپ میں بچوں کی شرح پیدائش میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس  لئے ہم آبادی پر کنٹرول یا برابری کے ان انسانی ضابطوں پر نہ یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔

اسلام میں اس کا حل یہی ہے کہ ذرائع پیداوار کے تلاش کرنے اور اس کی منصفانہ  تقسیم کے لئے بھرپور جدوجہد کی جائے۔ کسی عذر یا مجبوری کی وجہ سے انفرادی طور پر برتھ کنٹرول یا اس کی منصوبہ بندی کے لئے عورت اور مرد کوئی بھی ایسا طریقہ استعمال کرسکتے ہیں جو ان کی صحت کے لئے نقصان دہ نہ ہو۔ ایسی گولیاں یا کوئی دوسرا طریقہ استعمال نہیں کیا جاسکتا جو عورت کی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔

نس بندی کےبارےمیں بھی یہی حکم ہے کہ کسی عذر اور مجبوری کے بغیر ہرگز جائز نہیں اور اگر اولاد کی پیدائش کی وجہ سے ماں کی زندگی خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے یا کوئی دوسری خطرناک بیماری لگ سکتی ہے تو ایسی صورت میں نس بندی بھی جائز ہے ۔ مگر محض آبادی میں اضافے کے خوف یا رزق میں کمی کے ڈر سے ان میں سے کوئی شکل بھی جائز نہیں۔

(۵)اسقاط حمل حرام ہے اور سماجی دباؤ یا کسی دوسرے بہانے کی وجہ سے حمل کا ضائع کرنا ہرگز جائز نہیں۔ یہاں بھی اگر طبی نقطہ نظر سے کوئی مجبوری ہے مثلاً ولادت کے موقع پر عورت کی ہلاکت کا خطرہ یا کسی مہلک بیماری کا لاحق ہوجانا ایسی شکل میں تواس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کے بغیر اسقاط حمل کی اجازت دینا برائی اور زنا کا راستہ کھولنے کے مترادف ہے جس کی اسلام کسی شکل میں بھی اجازت نہیں دے سکتا ۔ مذکورہ بالاعذر کے بغیر اگر کوئی ڈاکٹر یہ کام کرے گا تو وہ بھی اس گناہ میں ملوث ہوگا۔ اگر رومن کیتھولک ڈاکٹر یہ کام کرنےسے انکار کرتے ہیں تو مسلمان ڈاکٹر کو تو اس سے بھی زیادہ پابند ہوناچاہئے اور ایسے کام کے کرنےسے اجتناب کرنا چاہئے۔

(۶)نطفے اور ماں کے پیٹ میں بچے کی عمر کےمختلف مراحل کا قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر ذکر ہے۔ لیکن سورہ حج اور سورہ المومنون میں قدرے تفصیل دی گئی ہےارشاد ربانی ہے۔

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ إِن كُنتُم فى رَ‌يبٍ مِنَ البَعثِ فَإِنّا خَلَقنـٰكُم مِن تُر‌ابٍ ثُمَّ مِن نُطفَةٍ ثُمَّ مِن عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُضغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيرِ‌ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُم وَنُقِرُّ‌ فِى الأَر‌حامِ ما نَشاءُ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ نُخرِ‌جُكُم طِفلًا ثُمَّ لِتَبلُغوا أَشُدَّكُم... ﴿٥﴾... سورةالحج

اے لوگو! اگر تم دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں شک میں مبتلا ہوتو ذرا غور  کرو کہ ہم نے تمہیں پہلے مٹی سے پیدا کیا’ پھر نطفے سے ’پھر جمے ہوئے خون سے’پھر گوشت کے لوتھڑے سے ’نقش بنے ہوئے اور بغیر نقش بنائے تاکہ تمہارے لئے کھول کر بیان کردیں ۔ پھر ہم جس طرح چاہیں ایک مدت مقرر تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ایک بچہ بنا کر تمہیں باہر لاتے ہیں پھر تم جوانی تک پہنچتے ہو۔

﴿وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسـٰنَ مِن سُلـٰلَةٍ مِن طينٍ ﴿١٢ ثُمَّ جَعَلنـٰهُ نُطفَةً فى قَر‌ارٍ‌ مَكينٍ ﴿١٣ ثُمَّ خَلَقنَا النُّطفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقنَا العَلَقَةَ مُضغَةً فَخَلَقنَا المُضغَةَ عِظـٰمًا فَكَسَونَا العِظـٰمَ لَحمًا ثُمَّ أَنشَأنـٰهُ خَلقًا ءاخَرَ‌ فَتَبارَ‌كَ اللَّهُ أَحسَنُ الخـٰلِقينَ ﴿١٤﴾... سورةالمؤمنون

اور بلاشبہ ہم نے انسان کو (سب سے پہلے ) منتخب مٹی سے پیدا کیا ’پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں ایک ساکن جگہ میں رکھا’اس کے بعد ہم نے اس قطرے کی جماہوا بنادیا ’پھر اس منجمد  لہو کو ہم نے گوشت کا لوتھڑا بنادیا’پھر اس سے ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنایا پھر اسے ایک نئی صورت میں لائے۔ تو اللہ بڑی برکت والا ہے اور سب سے بہتر بنانے والاہے۔

ان دونوں آیتوں میں دنوں یا مدت کے تعین کے بغیر مختلف مراحل کا ذکر کردیا گیا ہے اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نطفہ رحم میں ٹھہرنے کےبعد زندگی کا عمل ایک حد تک شروع ہوجاتا ہے اور اس نطفےکے بعدمختلف مراحل تکمیل تک آتے ہیں۔

امام ابن کثیر ؒ سورہ حج کی آیت مذکورہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ نطفہ جب عورت کے رحم میں ٹھہر جاتا تو چالیس دن کے دوران اس میں  کچھ اضافے ہوتےہیں اور پھر وہ سرخ منجمد خون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس حالت میں چالیس دن رہنے کے بعد پھر وہ گوشت کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے جس کی کوئی شکل یا نقشہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد اسکے نقش بننے  شروع ہوجاتےہیں۔ مثلاً سر’دونوں’ہاتھ’سینہ’پیٹ’رانیں’پاؤں اور دوسرے اعضاء کی شکل بننی شروع ہوجاتی ہے۔ کبھی وہ مکمل ہو کر پیدائش ہوتی ہے اور کبھی نامکمل حالت میں اسقاط بھی ہوجاتا ہے یہ ہے معنی  مخلقہ اور غیر مخلقۃکا ۔

بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں مزید  صراحت  ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اکرم صادق و مصدوق ﷺ نے بتایا کہ

ان خلقکم احدکم یجمع فی بطن امه اربعین لیلة ثم یکون علقة مثل ذالک ثم یکون مضغة مثل ذالک ثم یبعث الله الیه الملک فیومر باربع کلمات فکتب رزقه و عمله واجله و شقی و سعیدثم ینفع فیه الروح۔ (فتح الباری ج ۱۵ کتاب التوحید باب قوله تعالی ولقد سبقت کلمتنا  لعبادنا المرسلین ص ۴۰۴ رقم الحدیث ۷۴۵۴)

تمہاری پیدائش کا سلسلہ یوں ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ ٹھہرتا ہے’پھر وہ خون کا ٹکڑا بنتا ہے’چالیس دن اسی حالت میں رہتا ہے ’پھر گوشت کا ٹکڑا بنتا ہے اور چالیس دن اسی حالت میں رہتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتا ہے وہ چار باتوں کا حکم لے کر آتا ہے۔رزق ’عمل’موت اور شقی یا سعید ہونے کا پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔

امام ابن کثیرؒ نے ابن ابی حاتم اور ابن جریر کے حوالے سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جو ں ہی نطفہ رحم میں ٹھہرتا ہے تو چالیس دن یا پینتالیس دن کے بعد فرشتہ آتا ہے اور عمر’رزق’اور لڑکا یا لڑکی ہونے جیسے معاملات اللہ کے حکم سے لکھ دیتا ہے بعض روایات میں چار ماہ کا ذکر آیا ہے کہ چار ماہ کے بعد روح پھونک  دی جاتی ہے۔

بہرحال چونکہ نطفے کے استقرار کے ساتھ ہی زندگی کےاعمال کا آغاز ہوجاتا ہے اس لئے اس کا علم ہونے کے بعد اسقاط کرنا جائز نہیں ہوگا چاہے چالیس دن گزریں چاہے یا چار ماہ۔ اس لئے کہ مذکورہ روایا ت کی روشنی میں زندگی کی شروعات قطرے سے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔

(۷)قرآن میں جس آیت کا ذکر ہے اس میں یہ اسقاط بھی شامل ہوسکتا ہے۔ اگر افلاس کے ڈر سے کرے گا تب تو ظاہر ہے اور اگر اس کے علاوہ کسی سبب سے کرے گا تب بھی ایک نفس کی زندگی ختم کرنے یا کم ازکم اسے روکنے کی کوشش کی ہے۔ ہاں اگر شروع میں عورت کی زندگی بچانے کے لیے کر لیا جائے تو بامر مجبوری اس کی گنجائش ہوسکتی ہے مگر وہ بھی ابتدائی ۴۰ دنوں کے اندر اور تین یا چار ماہ کے بعد تو اس کی بھی گنجائش نظر نہیں آتی ۔

(۸)میت کو جلانا اسلامی نقطہ نظر سے سخت جرم ہے۔ اسلام میں مسلمان بلکہ انسان کے جسم کا احترام روح نکلنے کے بعد بھی ضروری ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ (ﷺ) نے مردے کی ہڈیاں توڑنے یا اسے مارنے سے منع فرمایا ہے۔ اس لئے جلانے کےعمل میں تو مسلمان ڈاکٹر کا شریک ہونا جائز نہیں۔ جہاں تک صرف میت کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا تعلق ہےتو موت کی تصدیق کے سلسلے میں ملکی نظام کے مطابق جو بھی فیس ہے ڈاکٹر اپنے پیشے کے لحاظ سے وہ کے سکتا ہے بشرطیکہ اس میں جھوٹ یا بددیانتی کا کوئی دخل نہ ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص529

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)