فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 14166
(330) لاٹری کا شرعی حکم کیا ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 June 2015 11:07 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مغربی جرمنی سے جناب سالک لکھتے ہیں يہاں جرمنی میں  LOTOکے نام سے انعام دیئے جاتے ہیں۔ مثلاً منسلکہ فارم پر کرکے ایک جرمن مارک دوخانوں کی اداہوتی ہے۔ پھر جب انعام نکلتا ہے تو پہلا انعام تقریباً دس لاکھ مارک ہوتا ہے اور بے شمار لوگ ہر ہفتہ یہ لوٹو (لاٹری )ڈالتے ہیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جرمن زبان میں جس چیز کو لوٹو کہاجاتاہے  ہمارے ہاں اسے لاٹری کہتے ہیں اسے کے جوا ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور جوا بھی ایسے ہی حرام ہے جیسے شراب حرام ہے اور قرآن میں جوئے کی حرمت واضح طور پر آچکی ہے۔ پھر لاٹری جو جوئے کی ایک قسم ہے اس کے رسیا عام طورپر محنت سے جی چراتےہیں وہ خالی آرزوؤں کے سہارے جیتے ہیں ۔ جدوجہد او ر اسباب پر بھروسہ ختم ہوجاتا ہے بعض لوگ پول یا لوٹو کے فارم بھرتے بھرتے سینکڑ وں بلکہ ہزاروں کی دولت ضائع کر بیٹھتے ہیں اور کنگال ہوجاتے ہیں اور جوئے کی بھی شکل یہی ہے کہ ایک آدمی ایک بار پھر دوسری بار پھر تیسری بار اورمسلسل ہارنے یا اپنےپیسے ضائع کرنے کے باوجود بار بار اس امید پر کہ اب کی بار اس کا نمبر آجائے گا اور اتنی بڑی رقم کا مالک بن جائے گا اور اس طرح یہ لوگ کنگال ہوجاتےہیں اور دین و دنیا دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس لئے جوئے ’لاٹری ’لوٹو یا پول ان سب میں ایک چیز آپ کو مشترک نظر آئے گی۔ وہ یہ کہ بغیر محنت کے بہت بڑی رقم کا مالک بن جائے اور پھر اس آرزو پر وہ سب کچھ کھو بیٹھتا ہے ۔ لہٰذا اس کے جواز کی کوئی شکل نہیں۔ لاٹری میں بھی جوئے والی ساری خرابیاں پائی جاتی ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص516

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)