فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14133
(297) گیارہویں شریف کی حقیقت کیا ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 June 2015 11:02 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لیڈز سے محمد یٰسین لکھتےہیں

گیارہویں شریف کے بارے میں وضاحت کریں کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ یہ فرض ہے یا واجب یا سنت؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کریں اور پیران پیر عبدالقادر جیلانی کے زمانے میں گیارہویں کس طرح کرتے تھے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گیارہویں شریف کے بارے میں‘‘ صراط مستقیم’’ میں متعدد بار مفصل مضامین شائع ہوچکے ہیں آپ صراط مستقیم کے پرانے رسالوں میں ان کا مطالعہ کرسکتےہیں۔ مختصر یہ ہے کہ

قرآن و حدیث میں گیارہویں جیسی رسم کا نہ ذکر ہے نہ ثبوت ۔ اگر یہ حضر ت شیخ عبدالقادر جیلانی کے نام کی دی جاتی ہے یا انہیں راضی اور خوش کرنے کے لئے ہے تو یہ حرام ہے کیوں کہ یہ غیر اللہ کے نام کی نذر ہے اور نذر لغیر اللہ قرآنی نص کے ذریعے حرام ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

﴿حُرِّ‌مَت عَلَيكُمُ المَيتَةُ وَالدَّمُ وَلَحمُ الخِنزيرِ‌ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ‌ اللَّهِ بِهِ... ﴿٣﴾... سورةالمائدة

اللہ نے تم پر مرد ار اور خنزیر کا گوشت اور جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام نذر کی گئی ہو’ان سب کو حرام قراردیا ہے۔

اب اگر تو یہ غیر اللہ کےنام کی ہے یا اللہ کے سوا کسی کو راضی کرنے یا اس لئے کہ اس کےنام کی نذر دینے سے وہ ان کی کوئی مشکل حل کردے گا تو ایسی تمام صورتیں حرام ہیں۔

بعض لوگ کہتےہیں کہ وہ صرف حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کوثواب پہنچانے کے لئے گیارہویں دیتےہیں یہ غیر اللہ کی نذر تو نہیں ہوئی لیکن ثواب پہنچانے کے اس طریقے کا ثبوت بھی قرآن وحدیث میں نہیں ہے۔ یہ محض ایک رسم بن گئی ہے ورنہ حضرت پیران پیر کے علاوہ بھی تو بے شمار بزرگان دین اور اولیاء امت ہیں۔آخر ان کےنام کی یا انہیں ثواب پہنچانے کے لئے کوئی گیارہویں یا بارہویں کیوں نہیں دی جاتی؟

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو محض صدقہ و خیرات کرتےہیں۔ یہ تو کسی نام کی نذرونیاز نہیں۔ یہ اس لئے غلط ہے کہ مروجہ طریقہ کار تو یہ ہے کہ اس گیارہویں کو یا مولوی صاحبان کھاتےہیں یا عزیزواقارب اور گھر والے خود بیٹھ کر ہڑپ کرجاتے ہیں اور پھر کہتےہیں کہ صدقہ کیا ہے۔ صدقے کی یہ قسم کم از کم ہماری سمجھ نہیں آرہی کہ خود صدقہ کرو اور پھر خود کھاجاؤ اسے زیادہ سے زیادہ ایک دعوت یا پارٹی کہا جاسکتا ہے۔ ہاں اگر دوستوں و عزیزوں یا ئمہ و خطباء حضرات کے اعزاز میں دعوت کو کوئی گیارہویں  کا نام دیتا ہے تو اسےہم ناجائز نہیں کہہ سکتے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص452

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)