فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14124
(288) داڑھی منڈوانا جرم ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 June 2015 04:54 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لیڈز دے محمد یٰسین لکھتے ہیں’کس حدیث سے ثابت ہے کہ داڑھی ایک مشت ہونی چاہئے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

داڑھی سنت انبیاء ہے۔ اس کی رکھنا نہایت ضروری ہے اور اس کا منڈانا جرم ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اس کی سخت وعید فرمائی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرﷺ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

خالفواالمشرکین اوفوااللحی واحفو االشوارب۔ (مشکوة للالبانی ج ۲ باب الترجل ص ۱۲۶۱ رقم الحدیث ۴۴۲۱)

مشرکوں کی مخالفت کرتے ہوئے داڑھیان بڑھاؤ اور مونچھوں کو خوب کٹاؤ۔ (بخاری و مسلم)

ترمذی شریف میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:

عشر من الفطرة قص الشارب و اعفاء اللحیة والسواک والاستشاق رقص الاظفار و غسل البراجم و نتف الابط و حلق العانة واقتناص الماء قال زکریا قال مصعب و نسیت العاشرة الا ان تکون المضمضة۔ (ترمذی شریف ج ۲ ابواب الاستئذان والادب باب ماجاء فی تقلیم الاظفارض ۲۴۸)

یعنی دس چیزیں فطرت میں سے ہیں۔ مونچھیں صاف کرنا ’داڑھی لمبی کرنا ’مسواک کرنا ’ناک میں پانی لینا’ناخنوں کو تراشنا’انگلیوں کی گرہوں کو دھونا’بغل سے بال اکھاڑنا’زیر ناف بال مونڈنا’پانی سے استنجا جرنا۔زکریا لکھتے  ہیں کہ راوی حدیث مصعبؓ نے کہا دسویں چیز میں بھول گیا ہوں۔ غالباً وہ کلی کرناہے۔

ابو داؤد میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ :

کنا نعفی السبال الا فی حجة اوعمرة۔(فتح الباری ج ۱۱ کتاب اللباس باب تقلیم الاظفار ص ۵۴۲ شرحی حدیث رقم ۵۸۹۲)

یعنی ہم لوگ داڑھی کے بال چھوڑ دیا کرتے تھے مگر حج و عمرہ میں کٹواتے تھے۔

بخاری شریف میں تعلیقاً حضر عبداللہ بن عمر کے بارےمیں آتا ہے کہ:

کان ابن عمر اذا حج او اعتمر قبض علی لحیتة۔ (فتح الباری ج ۱۱ کتاب اللباس ص ۵۴۱ باب تفلیم الاظفار رقم الحدیث ۵۸۹۲)

یعنی عبداللہ بن عمرؓ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی سے پکڑ کر کٹوالیتے۔

ابو داؤد او نسائیکی ایک روایت میں حج و عمرہ کے بغیر ابن عمرؓ کے بارےمیں آتا ہے کہ مردان بن سالم کہتے  ہیں

رایت ابن عمر یقبض علی لحیته لیقطع مازاد علی الکف۔(ابو داؤد کتاب الصیام باب القول عندالفطار ۲۳۵۷ السنن الکبری للنسائی دارقطنی ۲۴۰ حاکم ۴۲۳/۱ بیهقی ۲۳۹/۴ ابن السنی ۴۷۸ شرح السنة ۲۶۵/۶

کہ میں نے ابن عمرؓ کو دیکھا وہ داڑھی کو ہاتھ میں پکڑتے او رجو مٹھی سے زائد ہوتی اس کو کاٹ دیتے۔

ان مختلف احادیث سے تین چیزیں ثابت ہوتی ہیں

اول: داڑھی فطرت میں سے ہے او اس کا رکھنا ضروری ہے اور اسے مطلق چھوڑ دینا بہتر اور افضل ہے۔ رسول اکرم ﷺ سے کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ نے داڑھی ایک مشت نے زائد کٹوائی ہو یا اس کا حکم دیا ہو۔ اس لئے افضل عمل تو یہی ہے کہ داڑھی پوری رکھی جائے۔

دوم: بعض آثار اور اقوال صحابہؓ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک مٹھی سے زائد کٹوانے کی اجازت ہے اور بعض صحابہ ؓ نے اس پر عمل کیا صرف حج کے موقع پر یہ اجازت ہے اور بعض نے اس کی عام اجازت د ی ہےمگر یہ جائز کی حد تک ہے۔ اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ داڑھی ایک مشت ہونی چاہئے بلکہ صرف جواز کی حد تک ثبوت ملتاہے۔

سوم: بعض ائمہ کرام اور علماء نے یہ کہا ہے جکہ جب داڑھی کے بال بکھر جائیں اور زیادہ بڑھ جائیں تو مٹھی سے پکڑ کر مناسب تراش خراش جائز ہے۔

لیکن یہ بات بہرحال پیش نظر رہنی چاہئےکہ پوری داڑھی رکھنا سب کے نزدیک افضل ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص428

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)