فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14094
(258) ارکان خمسہ میں جہاد کیوں نہیں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 June 2015 11:27 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

گلاسگو سے افتخار احمد نے طویل سوال ارسال کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ۔

‘‘ بچپن سے ہم سن رہے ہیں کہ اسلام کے پانچ ارکان ہیں: کلمہ’نماز’زکوٰۃ ’روزہ ’حج اور بعض علماء کی نظروں میں اسلام کے بنیادی پانچ ارکان ہیں  : نماز ’روزہ ’زکوٰۃ’حج ’جہاد لیکن زیادہ زور پہلے پانچ ارکان پر دیا جاتا ہے جس میں جہاد شامل نہیں ہے۔ میرے خیال میں علماء نے خطرات سے بچنے کےلئے جہاد کو ان پانچ  بنیادی ارکان سے نکال دیا ہے تا کہ باغی کا فتویٰ دے کر اس کو جیلوں یا پھانسی  کے تختہ پر نہ لٹکایا جائے اور اس طرح مسلمانوں کو باسانی غلام بنایا جاسکتا ہے آپ اس موضوع پر اپنے رسالے میں تحریر کرکے لوگوں کو بہرہ ور کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام میں جو بنیادی ارکان ہیں قرآن میں ان سب کا ذکر موجود ہے۔ اسی طرح ان پانچ کے علاوہ جو دوسرے فرائض ہیں ان کا حکم بھی قرآن پاک میں موجود ہے۔ ان میں ایک اہم فریضہ ‘‘ جہاد’’ بھی ہے۔ علماء امت نے نہ اسے ساقط کیا ہے اور نہ ہی کسی کو اجازت دی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مخصوص مقاصد کےلئے جہاد کی اہمیت اور فرضیت ختم کرنے کی کوشش کی اور پھر اس کا جو حشر ہو اوہ آپ کے سامنے ہے۔

قرآن تو واضح طور پر کہتا ہے

﴿وَجـٰهِدوا فِى اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ...﴿٧٨﴾...سورة الحج

اللہ کی راہ میں ایسے جہاد کرو جیسے جہاد کرنے کا حق ہے۔

جہاں تک پانچ بنیادی ارکا ن کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں خود نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ

‘‘ بنی الاسلام علی خمس شهادة ان لا اله الا الله و ان محمدا رسول الله واقام الصلوة و ایتاءالزکوة و صوم رمضان وحج البیت من استطاع الیه سبیلا’’ (فتح الباری ج ۱ کتاب الایمان باب دعا ء کم ایمانکم رقم الحدیث ۸)

‘‘ اسلام کی  بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی (۱)اس بات کو گواہی دینا کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں (۲)اور نماز قائم کرنا (۳)اور زکوٰۃ دینا (۴)اور رمضان کے روزے رکھنا (۵)اور بیت اللہ کا حج کرنا اگر اس کی طاقت ہو۔

تو اس میں علماء نے کوئی کمی بیشی نہیں کی کہ جہاد کو درمیان سے نکال دیا بلکہ رسول اکرمﷺ نے ان بنیادی ارکان کا تعین خود فرمایا اور ہمارے نزدیک اس سے جہاد کی اہمیت یا فرضیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ بلکہ ان بنیادی ارکان پر پختگی اور استقامت کے بعد ہی انسان قتال فی سبیل اللہ کےلئے  اپنے آپ کو تیار کرسکتا ہے۔ مومن کی ساری زندگی جہاد ہے اور یہ سارے اعمال جہاد کی تربیت ہیں ۔ ان بنیادی ارکان پر عمل پیرا ہو کر جہاد اکبر اس کےلئے آسان ہوجاتا ہے۔ اس لئے پانچ بنیادی فرائض میں اس کے ذکر نہ ہونے کی وجہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

قرآن نے نماز روزے سے بھی زیادہ تفصیل سے قتال فی سبیل اللہ کے احکام و مسائل اور جہاد کی فضیلت بیان کی ہے اور ہر دور کےعلماء حق نے دشمنان اسلام کے خلاف اعلان جہاد کیا اور اسلامی احکام سےبغاوت کرنے والے مسلمان حکمرانوں کے خلاف بھی جہاد جاری رکھا۔ آپ دنیا بھر کی آزادی  اور جہاد کی تحریکوں کا مطالعہ کیجئے تو آپ کو علماء حق کا کردار بڑا نمایاں نظر آئے گا ۔ اس لئے یہ صحیح نہیں کہ علماء جہاد پر زیادہ زور  نہیں دیتے اور جو لوگ جہاد کی اہمیت کےقائل نہیں یا آج اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے وہ اسلامی تعلیمات کی روح ہی سے ناواقف ہیں۔ اس امت کی بقاء اور اس کےغلبے کا انحصار ہی جذبہ جہاد پر ہے جس کو زندہ رکھنا  نہ صرف علماء بلکہ ہر مسلمان کا  فرض ہے جو اسلامی جماعتیں  جہاد کو نظر انداز کرکے اپنے پیروکاروں کو صرف ذکر وفکر  کی تلقین کرتی ہیں وہ صحیح اسلامی دعوت پیش نہیں کررہیں۔

ان شاء اللہ ہم کبھی جہاد کی اہمیت پر مفصل مقالہ شائع کریں گے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص364

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)