فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14068
(232) دینی خدمات پر معاوضہ لینے کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 May 2015 03:27 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی شخص امامت کرتا ہے یا درس و تدریس کا کام کرتا ہے تو کیا وہ اسکا معاوضہ لے سکتا ہے؟ اور اگر وہ معاوضہ لےلیتا ہے تو کیا اسکو ثواب ملے گا یا نہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دینی امور کی ادائیگی پر معاوضہ لینے کے بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے،لیکن اگر کوئی شخص ان امور کی ادائیگی میں اپنے آپ کو پابند کر لیتا ہے اور کسب معاش کے لئے اس کے پاس وقت نہیں بچتا تو ایسے شخص کے بارے جمہور اہل علم کا یہی خیال ہے کہ پابندی وقت کا معاوضہ لے سکتا ہے۔کیونکہ اگر وہ اتنا وقت روزی کمانے کے لئے لگاتا تو روزی کما سکتا تھا۔ لیکن مذہبی امور کی انجام دہی مسئلہ بن جاتی۔ نہ وقت پر اذان، نہ نماز، نہ مسجد کی صفائی، نہ کھولنے اوربند کرنے اور دیگر اشیاء کی حفاظت ہو سکے گی۔ اب جو شخص ان تمام امور کو پابندی سے ادا کرے گا وہ اکثر معاش کمانے کے لئے معقول بندوبست نہیں کر سکتا۔ حالانکہ اس پر اپنا، اپنے والدین، بیوی بچے اور دیگر زیر کفالت افراد کا نان و نفقہ اور ضروریات زندگی مہیا کرنا بھی فرض ہے۔

نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد، آپ کے جانشین، خلیفہ اول اور مسلمانوں کے پہلے منتخب حکمران سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جب یہ معاشی مسئلہ پیش ہوا، تو محدثین کرام کی زبانی مسئلہ اور اس کا جمہوری اسلامی حل سن لیجئے۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے، فرمانے لگے، میری قوم کو معلوم ہے کہ میرا کاروبار، میرے اہل وعیال کا خرچہ بخوبی پورا کرتا ہے۔ اور اب میں مسلمانوں کے معاملات میں مصروف ہو گیا ہوں، اب ابوبکر کے اہل و عیال اس مال (بیت المال) سے کھائیں گے اور وہ مسلمانوں کے امور نمٹائیں گے۔(صحيح بخاری:7163)

پس آج بھی دینی فرائض انجام دینے والے مسلمانوں کے دینی امور نمٹا رہے ہیں۔ اور اس وقت کا حق الخدمت لے رہے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)