فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 14021
پولیو کے قطروں کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 March 2015 09:16 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

پولیو کے قطروں کے حوالے سے اہل علم کا کیا خیال ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پولیو ویکسین کے حوالے سے بے شمار افواہیں گردش کر رہی ہیں۔بعض اسے نقصان دہ اور امت کے خلاف ایک سازش قرار دیتے ہیں تو بعض اسے مفید اور بیماریوں کے خلاف معاون قرار دیتے ہیں۔بہر حال جب تک اس ویکسین کے اجزائے ترکیبی اور فارمولے کا علم نہیں ہوجاتا اس وقت تک اس کے بارے کوئی بھی بات کرنا غیر مناسب ہے۔اگر آپ اس کا فارمولا کہیں سے تلاش کر کے بھیج دیں تو ہمارے لئے بھی آسانی ہوجائے گی۔حتمی رائے تو مکمل تحقیق کے بعد ہی دی جاسکتی ہے کہ آیا یہ صحت کے مفید اور نفع بخش چیز ہے یا امت کے خلاف کوئی سازش ہے۔ڈاکٹروں کی تحقیق کے بعد اگر تو یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ ایک مفید اور نفع بخش دوائی ہے تو پھر اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے ،اگرچہ لوگوں میں جیسی بھی افواہیں گردش کرر ہی ہوں ،کیونکہ میڈیکل کے شعبے میں میڈیکل کا ماہر آدمی ہی صحیح رائے دے سکتا ہے۔لیکن اگر یہ مضر صحت ثابت ہوجائے تو پھر اس کا استعمال ناجائز ہوگا۔ابھی ہمارے پاس اس کی کوئی مستند تحقیق موجود نہیں ہے،اس لئے کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)