فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14006
(170) مقدس اخبارات کی حرمت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 March 2015 01:18 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہیلی فیکس سے جناب زین العابدین پوچھتے ہیں

(الف)اکثر اردو اخبارات میں نبی کریمﷺ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور بعض دفعہ آیات قرآنی وا حادیث بھی تحریر ہوتی ہیں۔ دکاندار اس  میں سودا لپیٹتے ہیں۔ ہمیں ایسے اخبارات کے ساتھ کیا سلوک کرناچاہئے اور اخبار کی بے حرمتی کےمتعلق کیا خیال ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جن کاغذات پر اللہ اور اللہ کے رسول کےنام اور قرآنی آیات لکھی ہوں ان کا حتی الامکان احترام کرناچاہئے۔ اخبارات والوں کو بھی چاہئے کہ عام حالات میں آیات و احادیث تحریر نہ کریں بلکہ ان کا ترجمہ دےدیا کریں دکانداروں اور عوام دونوں کو چاہئے کہ اس طرح پیپر کو استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔ جو آدمی ان چیزوں کو پالے اسے ایسے اخبارات کے ٹکڑے جلا کر خاک دفن کر دینی چاہئے یا ان کو دریا یا سمندر میں بہا دینا چاہئے۔ بہرحال جو چیز آپ کے اختیار میں ہے وہ کریں او ر جو چیز آپ  کے بس میں ہی نہیں اس کےلئے فکر مند بھی نہیں ہوناچاہئے۔ آپ اپنی حد تک احتیاط برتئے اور دوسرں کو پاکیزہ الفاظ اور پاک ناموں کا احترام کرنے کی تلقین کیجئے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص327

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)