فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14003
(167) بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ لکھ سکتےہیں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 March 2015 01:02 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

خط یا کسی تحریر کےشروع میں ہمیں سکولوں میں یا ماں باپ نے ۷۸۶ لکھنا سکھایا تھا کہ اس کی طاقت کلمہ طیبہ کےبرابر ہے لیکن ایک مولوی صاحب نے اسے غلط کہہ کر اپنی طرف سے ۹۲/۷۸۶ کی تعلیم جاری کی ہے اس پر مناسب روشنی ڈالیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی بھی تحریر کےشروع پر بسم اللہ لکھنا سنت نبویﷺ ہے اور مسلمانوں کو جس  طرح کھانے پینے اور دوسرے کاموں کے آداب سکھائے گئے ہیں اسی طرح تحریر کے جو آداب ہیں ان میں بسم اللہ بھی شامل ہے لیکن برصغیر کےبعض علاقوں میں خط شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ لکھنے کا رواج ہے جس کی وجہ آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آئی کیونکہ اس کے لئے  کوئی شرعی دلیل نہیں ہے لہٰذا ہمارے نزدیک ۷۸۶ یا ۹۲/۷۸۶ دونوں کا بسم اللہ کی جگہ لکھنا بے فائدہ اور خلاف سنت ہے ۔ اصل طریقہ یہی ہے کہ تحریر کا آغاز بسم اللہ سےکیاجائے۔ عام طور پر یہ کہاجاتا ہے کہ لوگ خطوط کی حفاظت نہیں کرتے لہٰذا اللہ کے نام کی بے حرمتی سے بچنے کےلئے بسم اللہ کے متبادل ۷۸۶ لکھا جاتا ہے یہ دلیل کئی لحاظ سے غلط ہے۔

۱۔اول اس لئے کہ ۷۸۶ کسی طرح بسم اللہ کا متبادل نہیں ’ یہ مفروضہ ہی سرے سے غلط ہے کہ کوئی لفظ  یا عدد بسم اللہ کا متبادل ہوسکتا  ہےکیونکہ سلف صالحین سےکسی  ایسی چیز کاثبوت نہیں ملتا کہ اگر بسم اللہ کے عدد نکال کر انہیں لکھنے پڑھنے  میں استعمال کر لیا جائے تو اس سے بسم اللہ کا مفہوم ادا ہوجائے گا یا مقصود پورا ہوجائے گا۔

۲۔ جہاں تک اس دلیل کا تعلق ہے کہ لفظ اللہ کی بے حرمتی کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے ۷۸۶ لکھا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پھر اللہ یا محمدﷺ کا لفظ کہیں بھی خط میں تحریر کےاندر استعمال نہیں کرنا چاہئے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہی خطوط کےاندر جنہیں لوگ ۷۸۶ سےشروع کرتے ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کے کئی بار نام لکھتے ہیں وہاں کوئی بھی احتیاط ملحوظ نہیں رکھتا کہ لفظ جلالہ کی  توہین ہو جائے گی۔

۳۔رسول اللہ ﷺ نے جو غیر مسلموں کی خطوط لکھے ان کو بسم اللہ اور رسو ل اللہ کےالفا ظ سے شروع کیا حالانکہ غیر مسلموں سے تو ان خطوط کی عزت کی توقع ہی نہ تھی لیکن پھر بھی آپ نے بے حرمتی کےڈر سے بسم اللہ اور لفظ اللہ ترک کرکے ان کی جگہ ان الفاظ کے عدد نہیں لکھے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ سبا کو خط لکھا تھا اس وقت وہ کافر تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنے خط میں بسم اللہ کےالفاظ تحریر کئےنہ  کہ اس کے عدد ۔ ارشاد ربانی ہے

﴿إِنَّهُ مِن سُلَيمـٰنَ وَإِنَّهُ بِسمِ اللَّـهِ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ ﴿٣٠﴾... سورة النمل

بے شک یہ خط سلیمان ؑ کی طرف سےہے اور اللہ کےنام سے شروع کیا گیا ہے جو بہت مہربان اور بہت رحم کرنے والاہے۔

ان دلائل کی روشنی میں مسئلہ پوری طرح واضح ہوگیا ہے کہ شرعی طور پر بسم اللہ کی جگہ نہ ۷۸۶ کی گنجائش ہے اور نہ ۹۲/۷۸۶ لکھنے کی بلکہ پوری بسم اللہ لکھنی چاہئے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص320

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)