فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13977
(142) میت کو ثواب کیسے پہنچایا جائے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 04 March 2015 11:55 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

والتھم سٹو لندن سے محمد رفیق لکھتے ہیں

         ہمارے ہاں جوفاتحہ کسی کےمرنے کے بعد ایصال ثواب کے لئے پڑھی جاتی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ آیا حضور نے ایسا کیا یا یہ کب ایجاد کی گئی اور فاتحہ پڑھنے کا مقصد کیا ہے جب کہ ہمارے ہاں جب کوئی بچی بچہ  فوت ہوجائے تو تب بھی پڑھی جاتی ہے اور اگر کوئی بدعتی مرجائے تو تب  بھی پڑھی جاتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے ہاں کسی کی موت واقع ہونےکے بعد جو فاتحہ کا لامتناہی سلسلہ چل نکلتا ہے اس کا قرآن و سنت اور ائمہ دین کے اقوال میں کوئی ثبوت نہیں اور پھر یہ کب ایجاد ہوئی؟ معلوم یہی ہوتا ہے کہ یہ برصغیر پاک وہند ہی کہ ایجاد ہے ۔ دوسرے ملکوں میں فاتحہ کی یہ شکل شاید نہیں ہے۔ ایصال ثواب بذریعہ فاتحہ’اس کا کوئی شرعی ثبوت نہیں۔ آخر آنحضرت ﷺ کے وقت اموات ہوئیں ’ حضور ﷺ نے جنازے پڑھائے۔ تعزیت کے لئے تشریف لے جاتے لیکن اس مروجہ فاتحہ کا کسی صحیح حدیث میں کوئی ذکر تک نہیں ملتا ۔ اسے حضور ﷺ نےمیت کے ایصال ثواب کے لئے پڑھا ہو’کم از کم میرے علم کی حد تک اس بارے میں کوئی حدیث یا کسی امام کا کوئی قول ثابت نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص272

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)