فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13935
(100) تعزیت کرنے کا مروجہ طریقہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 March 2015 09:28 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فوتگی کے بعدفوت شدہ شخص کے لواحقین کا ایک دن یا دو دن بیٹھنا تا کہ لوگ ان سے تعزیت کر سکیں ،بدعت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تعزیت کرنا تو جائز ہے، کیونکہ اس میں مصیبت پر صبر کے بارے میں تعاون ہے لیکن تعزیت کے لیے ہمارے ہاں مروجہ طریقے سے بیٹھنا اور اسے ایک عادت کا روپ دے دینا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طرز عمل سے ثابت نہیں ہے ۔لوگوں نے تعزیت کو جو یہ شکل و صورت دے دی ہے اور اس کے لیے بے پناہ مال و دولت کو خرچ کرنا شروع کر دیا ہے حالانکہ ترکہ تو یتیموں کا مال ہے اور اسے خرچ کرنا ان کی مصلحتوں کے خلاف ہے اور پھر تعجب یہ ہے کہ جو لوگ ان محفلوں میں شریک نہ ہوں انہیں یہ اس طرح ملامت کرتے ہیں گویا انہوں نے کوئی شرعی فریضہ ترک کر دیا ہو۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

"تعزیت کیلئے بیٹھنے کے بارے میں امام شافعی اور مصنف [یعنی امام شیرازی] و دیگر [شافعی]فقہائے کرام نے واضح لفظوں میں کراہت کا حکم لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ: انہیں [یعنی: اہل میت کو]چاہئے کہ اپنے کام کاج میں مصروف رہیں، جو انہیں مل جائے وہ ان کے ساتھ تعزیت کر لے، اس تعزیت کیلئے بیٹھنے کے حکم میں مرد و خواتین کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔"( المجموع شرح المهذب" (5/306)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)