فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13934
(99) یزید نام رکھنے کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 March 2015 09:24 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتل کا نام فیروز تھا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتل کا نام غالبا"شمر یا ابو زیاد" تھا۔ آج کل لوگ فیروز نام تو رکھ لیتے ہیں، حتیٰ کہ دو علماء کرام کے نام فیروز ہیں۔ ایک فیروز الدین رحمانی (بریلوی) اور دوسرے محمد فیروز میمن (دیوبندی)۔ لیکن یزید نام رکھتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔ جبکہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری کسی بھی طور پر یزید رحمۃ اللہ علیہ پر عائد نہیں ہوسکتی۔ دیگر یہ کہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ کی کتاب ' الاصابہ فی تمییز الصحابہ ' میں تقریبا ١٠٣ صحابہ کرام کا تذکرہ جنکانام یزید رضی اللہ عنھم اجمعین ہے۔تو کیا روافض کے جھوٹ کی وجہ سے اسقدر کثرت سے استعمال ہونے والے عربی نام کو نہ رکھنے کی کیا وجہ ہے۔کیا اس نام مبارک کو دوبارہ رواج دینے کی ضرورت نہیں؟ آپ سے درخواست ہے کہ اس موضوع پر کچھ اظہار خیال فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

محترم بھائی آپ کی بات بالکل درست اور صحیح ہے ،ہم آپ کی اس بات سے سو فیصد متفق ہیں۔یزید نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔کیونکہ نام رکھنے میں درج ذیل چند چیزوں کی رعایت ہونی چاہئے۔

(١) نام سے شرک کی بو نہ آئے۔

(٢) تکبر کا اظہار نہ ہو۔

(٣) صاحب نام کی تذلیل نہ ہوتی ہو۔

مذکورہ بالا چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے کوئی بھی نام رکھا جا سکتا ہے۔ انبیاء کرام، صحابہ کرام اور علماء کرام کے نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اگر ہم کچھ وقت کے لئے یہ مان لیں کہ یزید نام اس وجہ سے نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ معاویہ بن سفیان کے بیٹے کا نام تھا جن کے اوپر یہ الزام رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کو شہید کروایا تو آخر صحابہ کرام میں بھی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جن کا نام یزید تھا (جیسا کہ آپ نے ذکر کیا)تو پھر صحابہ کرام کی محبت میں یزید نام کیوں نہیں رکھ سکتے؟

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سارے محدثین کے نام یزید تھے جبکہ واقعہ کربلا پیش آچکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ عرب ممالک میں اب بھی لوگ اپنے بچوں کا نام یزید رکھتے ہیں۔ اس نام میں نہ کوئی معنوی خرابی ہے اور نہ کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کو ترک کر دیا جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)