فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13817
(218) زلزلہ اور لوگوں کے گناہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 04 February 2015 01:15 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محترم حافظ صاحب زلزلے کے سلسلے میں چند روایات ہیں جنھیں حافظ حسن مدنی صاحب نے اپنے ماہنامہ میں نقل کیا ہے، ان کی تحقیق درکار ہے جو درج ذیل ہیں: ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک شخص نے زلزلہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:

’’فاذا استحلوا الزنا و شربوا الخمور بعد هذا و ضربوا المعارف غار الله فی سمائه فقال للارض: تزلزلی بهم فان تابوا و نزعوا والا هدمها علیهم فقال انس: عقوبة لهم؟ قالت: رحمة و برکاته و موعظة للمؤمنین و نکالا و سخطة و عذابا للکافرین۔ (مستدرک حاکم: ۸۵۷۵ صحیح علی شرط مسلم)

لوگ جب زنا کاری کو مباح سمجھنے لگتے ہیں، شراب پینا دن رات کا مشغلہ بنا لیتے ہیں اور ناچ گانے میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور وہ زمین سے فرماتا ہے: ان پر زلزلہ لا (یعنی ان کو جھنجھوڑ دے۔) اگر اس سے عبرت حاصل کی اور باز آگئے تو خیر ورنہ اللہ تعالیٰ ان پ زمین کو (عذاب کی صورت میں) ملط فرما دیتا ہے۔ حضرت انس نے پوچھا: یا ام المومنین! یہ زلزلہ سزا ہے؟ فرمایا: مومنوں کے لئے تو باعث رحمت اور نصیحت ہے، البتہ نافرمانوں کے لئے سزا، عذاب اور غضب ہے۔‘‘

٭            دورِ نبوی مں زلزلہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو ٹھہر جانے کا حکم دیا اور صحابہ کرام سے فرمایا کہ رب العالمین اس کے ذریعے برائیوں کے ترک کا مطالبہ کرتا ہے، اس کی طرف رجوع کرو۔

٭            عہد فاروقی میں زلزلہ آیا تو حضرت عمر نے فرمایا: یہ محض ان نئی چیزوں (بدعات و خرافات) کی وجہ سے ہے جن کو تم نے دین میں شامل کر دیا ہے۔ اگر ایسی باتیں ہوتی رہیں تو سکون ناممکن ہے۔

٭            حضرت کعب فرماتے ہیں کہ زمین اس وقت ہلتی ہے جب معصیت کی کثرت ہو جاتی ہے، گناہوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور یہ زلزلہ رب العزت کا خوف ہے جس سے زمین کانپ اٹھتی ہے۔

٭            حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تمام اطراف کو لکھا کہ زلزلہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ بندوں کو عتاب فرماتا ہے، اور انہیں پابند کیا کہ سب لوگ شہر سے باہر نکل کر اللہ کے سامنے گڑ گڑاؤ اور جس کو اللہ نے مال عطا فرمایا ہے، وہ اپنے مال سے صدقہ خیرات کرے۔

مذکورہ بالا تمام واقعات کو علامہ ابن قیم الجوزیہ نے اپنی کتاب الداء والدواء کے صفحہ ۶۳، ۶۴ پر درج کیا ہے۔‘‘ (ماہنامہ محدث لاہور، جلد ۳۷ شمارہ ۱۱ ص۸، نومبر ۲۰۰۵ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلی روایت امام نعیم بن حماد الصدوق رحمہ اللہ کی (طرف منسوب) کتاب الفتن (ص۴۲۰ تحت ح۱۳۵۴، دوسرا نسخہ ۶۱۹/۲ ح۱۷۲۹) میں بقیہ ب الولید عن زید (یزید) بن عبداللہ الجھنی عن ابی العالیہ عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی سند سے مروی ہے۔ نعیم الصدوق کی سند سے اسے حاکم نیشاپوری نے روایت کرکے ’’صحیح علی شرط مسلم‘‘ قرار دیا ہے۔ (المستدرک ۵۱۶/۴ ح۸۵۷۵)

اس پر تعاقب کرتے ہوئے حافظ ذہبی لکھتے ہیں، ’’بل احسبه موضوعا علی انس و نعیم منکر الحدیث الی الغایة مع ان البخاری روی عنه‘‘

بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ روایت انس (رضی اللہ عنہ) پر موضوع ہے اور نعیم (بن حماد) حد درجے کا منکر الحدیث راوی ہے۔ باوجودیکہ بخاری نے اس سے (صحیح بخاری میں) روایت کی ہے۔ (تلخیص المستدرک ۵۱۶/۴)

یہ روایت اگرچہ مردود ہے مگر نعیم مظلوم پر حافظ ذہبی کی جرح جمہور محدثین کی توثیق کے مقابلے میں مردود و باطل ہے۔ نعیم بن حماد کے دوست اور واقف کار امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ: ’’ثقة……… کان نعیم بن حماد رفیقی فی البصرة‘‘ نعیم بن حماد ثقہ ہیں…… و بصرہ میں میرے ساتھی تھے۔ (سوالات ابن الجنید: ۵۲۸، ۵۲۹ و سندہ صحیح کالشمس)

تفصیل کے لئے میرا مضمون ’’ارشاد العباد الی توثیق نعیم بن حماد‘‘ دیکھیں۔ والحمدللہ

اس روایت کے ضعیف و مردود ہونے کی اصل وجہ دو ہیں:

(۱)          بقیہ بن الولید (صدوق) مدلس راوی ہیں۔ (طبقات المدلسین ۴/۱۱۷)

اور یہ روایت معنعن ہے۔

(۲)         ابن عبداللہ الجھنی مجہول الحال راوی ہے اسے حاکم کے علاوہ کسی نے بھی ثقہ قرار نہیں دیا۔

حافظ ذہبی بذات خود اس کی ایک روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’لا یصح خبرہ‘‘ اس کی خبر صحیح نہیں ہے۔ (میزان الاعتدال ۴۳۱/۴)

خلاصۃ التحقیق:

یہ روایت ضعیف و مردود ہے۔

ان میں سے دوسری روایت مرسل (یعنی ضعیف) ہے۔ دیکھئے الداء والدواء (ص۶۶)

تیسری روایت بحوالہ مناقب عمر لابن ابی الدنیا ہے لیکن بے سند ہے۔ بے سند روایت اس وقت تک ضعیف و مردود ہوتی ہے جب تک اس کی صحیح یا حسن سند دستیاب نہ ہو جائے۔

چوتھی روایت بحوالہ احمد عن صفیۃ مذکور ہے۔ یہ روایت نہ تو مسند احمد میں ملی اور نہ کتاب الزہد میں لہٰذا یہ روایت بھی بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

پانچویں روایت جو کعب (الاحبار) کا قول ہے سرے سے بے حوالہ بے سند ہے۔

چھٹی روای: قول از عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی بے حوالہ و بے سند ہے۔ (دیکھئے الداء والدداء ص۶۷)

یہ تمام روایات ہمارے نسخہ میں صفحہ ۶۶، ۶۷ پر مذکور ہیں۔ (الجواب الکافی لمن سال عن الدواء الشافی، عرف: الداء والدداء، تحقیق احمد بن محمد آل نبتۃ)

ملوم ہوا کہ یہ تمام روایتیں ضعیف و مردود ہیں۔ اہل علم کو چاہئے کہ وہ اپنی تحریروں میں صحیح و ثابت روایات ہی بطورِ استدلال بیان کیا کریں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص501

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)