فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 13814
(215) تعلیم و تدریس پر اجرت کا جواز
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 04 February 2015 12:54 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا دینی تعلیم و تدریس پر اجرت لینا جائز ہے؟ دلائل سے واضح کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«ان احق ما اخذتم علیه اجرا کتاب الله» تم جس پر اجرت لیتے ہو ان میں سب سے زیادہ مستحق کتاب اللہ ہے۔ (صحیح بخاری: ۵۷۳۷)

اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ کتاب الاجارہ، باب مایعطی فی الرقیۃ علی احیاء العرب بفاتحۃ الکتاب، قبل ح۲۲۷۶ میں بھی لائے ہیں۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں، ’’واستدل به للجمهور فی جواز اخذ الاجرة علی تعلیم القرآن‘‘ اور اس سے جمہور کے لئے دلیل لی گئی ہے کہ  تعلیم القرآن پر اجرت لینا جائز ہے۔ (فتح الباری ج۴ ص۴۵۳)

اب چند آثار پیش خدمت ہیں:

۱:             حکم بن عتیبہ (تابعی صغیر) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ما سمعت فقیها یکرهه‘‘ میں نے کسی فقیہ کو بھی اسے (اجرت معلم کو) مکروہ قرار دیتے ہوئے نہیں سنا۔ (مسند علی بن الجعد: ۱۱۰۵ و سندہ صحیح)

۲،             معاویہ بن قرہ (تابعی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’انی لارجو ان یکون له فی ذلک خیر‘‘ مجھے یہ امید ہے کہ اس کے لئے اس میں اجر ہوگا۔ (مسند علی بن الجعد: ۱۱۰۴ و سندہ صحیح)

۳:            ابو قلابہ (تابعی) رحمہ اللہ تعلیم دینے والے معلم کو اجرت (تنخواہ) میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ج۶ ص۲۲۰ ح۲۰۸۲۴ و سندہ صحیح)

۴:            طاؤس (تابعی) رحمہ اللہ بھی اسے جائز سمجھتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ ایضاً، ح:۲۰۸۲۵  وسندہ صحیح)

۵:            محمد بن سیرین (تابعی) رحمہ اللہ کے قول سے بھی اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۲۲۳/۶ ح۲۰۸۳۵ و سندہ صحیح)

۶:            ابراہیم نخعی (تابعی صغیر) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کانوا یکرهون اجر المعلم‘‘ وہ (اگلے لوگ، سلف صالحین) معلم کی اجرت کو مکروہ سمجھتے تھے۔ (مسند علی بن الجعد: ۱۱۰۶ و سندہ قوی)

اس پر استدراک کر تے ہوئے امام شعبہ بن الحجاج رحمہ اللہ، امام ابو الشعثاء جابر بن زید (تابعی) رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: بہتر و افضل یہی ہے کہ تعلیم و تدریس کی اجرت نہ لی جائے تاہم اگر کوئی شخص اجرت لے لیتا ہے تو جائز ہے۔

تنبیہ (۱):

تمام آثار کو مدنظر رکھتے ہوئے، ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے قول ’’یکرهون‘‘ میں کراہت سے کراہت تنز یہی مراد ہے اور حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ کے قول ’’یکرهه‘‘ میں کراہت تحریمی مراد ہے۔ واللہ اعلم

تنبیہ (۲):

بعض آثار صحیح بخاری (قبل ح۲۲۷۶) مں بعض اختلاف کے ساتھ مذکور ہیں۔ اجرت تعلیم القرآن کا انکار کرنے والے بعض الناس جن آیات و روایات سے استدلال کرتے ہیں ان کا تعلق دو امور سے ہے:

۱:             اجرت تبلیغ (یعنی جو تبلیغ فرض ہے اس پر اجرت لینا)

﴿لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ أَجرً‌ا اور ﴿ وَلا تَشتَر‌وا بِـٔايـٰتى ثَمَنًا قَليلًا وغیرہ آیات کا یہی مفہوم ہے۔ نیز دیکھئے ’’دینی امور پر اجرت کا جواز‘‘ ص۷۶

۲:            قراءت قرآن پر اجرت (یعنی نماز تراویح میں قرآن سنا کر اس کی اجرت لینا) حدیث: «اقرؤا القرآن ولاتاکلوابه» وغیرہ کا یہی مطلب و مفہوم ہے۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (ج۲ ص۴۰۰ باب فی الرجل یقوم بالناس فی رمضان فیعطی، ح۷۷۴۲)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص496

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)