فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13813
(214) اگر ڈاکو آ جائے تو گھر والے کیا کریں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 03 February 2015 04:20 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی شخص کے گھر میں کوئی ڈاکو آ جائے اور گھر والے کا مال لوٹنا چاہے اور یہ بھی ڈر ہو کہ اگر گھر والا اسے مطلوبہ مال نہیں دیتا تو وہ اسے قتل کردے گا۔

ایسی حالت میں گھر والا کیا کرے؟ کیا وہ اپنا مال بچاتے ہوئے اس ڈاکو سے جنگ کر سکتا ہے اور کیا وہ اسے قتل کر سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مسئلے کا حل صحیح حدیث میں موجود ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے، اگر ایک آدمی آکر میرا مال چھیننا چاہے تو (میں کیا کروں؟) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تو اسے اپنا مال نہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ (ڈاکو) میرے ساتھ جنگ کرے تو؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تو اس کے ساتھ جنگ کر۔ اس نے کہا: اگر اس نے مجھے قتل کر دیا تو؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تو پھر تو شہید ہے۔ اس نےکہا: اگر میں اسے قتل کر دوں تو؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: اگر تو اسے قتل کر دے تو وہ، آگ (جہنم) میں ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۴۰، ترقیم دارالسلام: ۳۶۰، مترجم ۲۳۴/۱، صحیح ابی عوانہ ۴۴/۱، دوسرا نسخہ ۳۹/۱، ح۹۸، السنن الکبریٰ للبیہقی ۲۶۶/۳۔ ۲۶۷، ۳۳۵/۸، ۳۳۶)

امام بغوی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (شرح السنہ ۲۴۸/۱۰ تحت ح۲۵۶۳)

اور عام اہل علم سے نقل کیا ہے کہ ایسی حالت میں ڈاکو کا خون ضائع ہے اور گھر والے پر کوئی سزا نہیں ہے۔ (دیکھئے شرح السنۃ ۲۴۹/۱۰ تحت ح۲۵۶۴)

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ گھر والے کو چاہئے (اور افضل بھی یہی ہے) کہ ڈاکو کو اپنا مال نہ دے بلکہ اس سے جنگ کرے اور اگر ایسی حالت میں گھر والا مارا گیا تو وہ شہید ہے اور ڈاکو اگر مارا گیا تو مردار اور جہنمی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص495

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)