فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13810
(211) جہادِ قسطنطنیہ کی بشارت اور یزید کی شمولیت؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 03 February 2015 02:47 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قسطنطنیہ کے جہاد کے بارے میں کہ جولوگ اس میں شامل ہوں گے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جنت کی بشارت دی تھی۔ وہ حملہ کب کیا گیا؟ یزید بن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس میں شامل تھے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح بخاری ج۱ص۴۱۰ ح ۲۹۲۴ میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«اول جیش من امتی یغزون مدینة قیصر مغفور لهم» میری امت میں سے (جو) پہلا لشکر، قیصر کے شہر (یعنی قسطنطنیہ) پر حملہ کرے گا، انھیں بخش دیا گیا ہے۔

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ قسطنطنیہ پر کئی حملے ہوں گے اور پہلا حملہ آور لشکر اس پیش گوئی کا مصداق ہے۔ ہماری تحقیق میں قسطنطنیہ پر عہدصحابہ میں درج ذیل بڑے حملے ہوئے ہیں:

(۱)سفیان بن عوف رضی اللہ عنہ کا حملہ۔ (الاصابہ ج۲ص۵۶) یہ حملہ ۴۸ھ کے لگ بھگ ہوا۔ (محاضرات الامم الاسلامیہ ج۲ص۱۱۴)

(۲)۳۲ھ میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا قسطنطنیہ پر حملہ (البدایہ والنہایہ ج۷ ص۱۶۶)

(۳)عبدالرحمن بن خالد بن الولید کا حملہ (سنن ابی داود:۲۵۱۲ وسندۃ صحیح)

عبدالرحمن بن خالد کی وفات ۴۶ھ میں ہوئی۔ (البدایہ والنہایہ ج۸ ص۳۲)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں قسطنطنیہ پر صیفی (گرمیوں والے) اور شتائی (سردیوں والے) حملے شعبان ۴۸ھ تا ربیع الثانی ۵۲ھ تک تقریباً سولہ حملے ہوئے تھے۔ آخری حملے میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تھے۔ اس غزوے میں یزید بن معاویہ بن ابی سفیان موجود تھا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یزید کا اول جیش میں موجود ہونا ثابت نہیں ہے لہٰذا وہ اس حدیث کے عموم میں شامل نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص484

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)