فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13788
(189) طارق جمیل صاحب کی بیان کردہ روایتیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 01 February 2015 01:22 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

طارق جمیل تبلیغی دیوبندی صاحب ایک مشہور واعظ ہیں، انھوں نے ایک واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ’’سعد السلیمی رضی اللہ عنہ بنوسلیم کے بدصورت، کالے رنگ والے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ’’جاؤ عمرو (بن وہب الثقفی) سے کہو (وہ) اپنی لڑکی تیرے نکاح میں دے دے ‘‘

جب سعد رضی اللہ عنہ وہاں (عمرو رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے کے پاس) پہنچے تو معلوم ہونے کے بعد عمروبن وھب نے انکار کردیا: ’’بھاگ جا کہاں کی بات کرتا ہے؟‘‘ عمرو کی بیٹی جو خوبصورت اور حسن و جمال میں مشہور تھی، بولی: ’’اے اباجان! یہ سوچ لو کیا کررہے ہو، تم نبی کی بات کو ٹھکرا رہے ہو ہلاک ہوجاؤ گے، میں تیار ہوں، نبی کے حکم کے سامنے کالے گورے کو نہیں دیکھ رہی، میں نبی کے حکم کو دیکھ رہی ہوں، جاؤ میں تیار ہوں اور کہہ دو: میں شادی کروں گی‘‘ اس کے بعد چارسودرہم حق مہر پر شادی ہوگئی‘‘

یہ مفصل واقعہ جناب طارق جمیل صاحب کے بیان کردہ ’’ایمان افروز اصلاحی واقعات‘‘ کے مجموعے ’’دلچسپ اصلاحی واقعات‘‘ (ترتیب محمد ارسلان اختر) میں درج ہے۔ (ص۲۲۰تا۲۲۳)

مہربانی فرما کر اس واقعے کی تحقیق کرکے ماہنامہ ’’الحدیث‘‘ میں شائع کریں، جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

طارق جمیل صاحب کا بیان کردہ یہ واقعہ ’’سوید بن سعید: ثنا محمد بن عمر الکلاعی عن الحسن وقتادہ عن انس رضی اللہ عنہ‘‘ کی سند کے ساتھ درج ذیل کتابوں میں موجود ہے:

کتاب المجروحین لابن حبان (ج۲ص۲۹۱، ۲۹۲) الکامل لابن عدی (ج۲ص۲۲۱۵، ۲۲۱۶)

اس روایت کے راوی محمد بن عمر کے بارے میں امام حاکم النیسابوری فرماتے ہیں:

’’روی عن الحسن وقتادۃ حدیثا موضوعا، روی عنہ سوید بن سعید‘‘ (المدخل للحاکم: ص۲۰۵ ت۱۸۶ لسان المیزان: ۵ص۳۱۹ واللفظ لہ)

یعنی یہ روایت، امام حاکم کے نزدیک موضوع (من گھڑت) ہے۔

اس روایت کے راوی محمد بن عمر الکلامی  کے بارے میں امام ابن عدی نے فرمایا: ’’منکر الحدیث عن ثقات الناس‘‘ وہ ثقہ راویوں سے منکر حدیثیں بیان کرتا ہے۔ (الکامل: ج۶ ص۲۲۱۵)

حافظ ابن حبان نے کہا: ’’منکر الحدیث جدا‘‘ یہ سخت منکر حدیثیں بیان کرنے والا ہے۔ (المجروحین:ج۲ص۲۹۱)

خلاصۃ التحقیق: یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے جسے طارق جمیل صاحب نے بیان کیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص441

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)