فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13782
(183) ابن جریر طبری نام کے دو شخص ہیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 01 February 2015 09:37 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ابن جریر طبری جو کہ صاحب تفسیر ہیں اور ایک ابن جریر طبری صاحبِ تاریخ ہیں، کیا دونوں افراد ایک ہی ہیں یا مختلف اگر ایک ہیں تو صاحبِ تاریخ کے متعلق علما سے سنا ہے کہ وہ رافضی تھا، تو پھر صاحبِ تفسیر پر علماء کا بھروسا کیوں ہے اور اگر علیحدہ علیحدہ ہیں تو دونوں کا مختصر ترجمہ لکھ کر بھیجیں۔ جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

: ابن جریر الطبری نام کے دو آدمی گزرے ہیں:

(۱)محمد بن جریر بن رستم الطہری ابوجعفر الآملی: یہ رافضی تھا۔ اس کے حالات کے لیے دیکھئے میزان الاعتدال (۳؍۴۹۹، ت۷۳۰۷) وذیل المیزان للعراقی (ص:۳۰۴ ت۶۳۷) لسان المیزان (۵؍۱۰۳ت۷۱۹۱) اور سیر اعلام النبلاء (۱۴؍۲۸۲) اہل سنت کے کسی امام نے اسے ثقہ یا صدوق نہیں کہا، عبدالعزیز الکتانی کہتے ہیں کہ رافضی تھا، بعض نے اسے معتزلی (بھی) قرار دیا ہے۔ شیعوں کے درج ذیل کتابوں میں اس کا تذکرہ موجود ہے:

مجمع الرجال للقہبائی (۵؍۱۷۳) معجم رجال الحدیث للخوئی (۱۵؍۱۴۷ت ۱۰۳۵۴) رجال النجاشی (ص۲۶۶وقال: جلیل من اصحابنا کثیر العلم حسن الکلام، ثقة فی الحدیث، لہ کتاب المسترشد فی الامامۃ) تنقیح المقال (۱؍۱۳۴ ت۱۳۳۰)

ابن داود الحلی الرافضی نے کہا: ’’ثقۃ فی الحدیث صاحب کتاب المستر شد فی الامامۃ۔۔۔ وھوغیر صاحب التاریخ، ذاک عامی‘‘ (ص۱۶۷)

میں (زبیر علی زئی) کہتا ہوں کہ میں نے اس رافضی کی کتاب ’’الامامۃ‘‘ پڑھی ہے جو کہ ساری کی ساری، بے اصل اور موضوع روایات سے بھری ہوئی ہے۔

(۲)محمد بن جریر بن یزید، ابوجعفر الطبری: یہ اہل سنت کے بڑے اماموں میں سے تھے، ان کے حالات کے لیے دیکھئے: تاریخ بغداد للخطیب (۲؍۱۶۲ت۵۸۹) المنتظم لابن الجوزی (۱۳؍۲۱۵ت۲۱۹۹) لسان المیزان (۵؍۱۰۰۔ ۱۰۳ ت۷۱۹۰) میزان الاعتدال (۳؍۴۹۸ ت۷۳۰۶) سیر اعلام النبلاء (۱۴؍۲۶۷ ت۱۷۵) اور طبقات الشافعیہ للسبکی (۳؍۱۲۰۔ ۱۲۸) وغیرہ۔ علمائے اہل سنت مثلاً ابوسعید بن یونس المصری اور خطیب بغدادی وغیرہما نے اس کی بہت تعریف کی ہے۔

حافظ ذہبی نے کہا: ’’کان ثقة صدقا حافظا‘‘ (سیر اعلام النبلاء ۱۴؍۲۷۰)

ابن خزیمہ الامام نے کہا: ’’وما اعلم علی ادیم الارض اعلم من محمد بن جریر، ولقد ظلمته الحنابلة‘‘ (النبلاء۱۴؍۲۷۳)

اس ابن جریر الطبری کی چند مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:

(۱)تفسیر طبری (۲)تاریخ طبری (۳)تہذیب الآثار (۴)صریح السنہ وغیرہ۔

یہ کتابیں بھی اس پر گواہ ہیں کہ ابن جریر سنی تھے۔ ابن جریر الطبری السنی نے کہا کہ ایمان قول وعمل کا نام ہے زیادہ بھی ہوتا ہے اور کم بھی ہوتا ہے۔ (صریح السنہ ص۲۵)

ابن جریر الطبری لکھتے ہیں: ’’وکذلک نقول فافضل اصحابہ صلی اللہ علیہ وسلم الصدیق ابوبکر رضی اللہ عنہ ثم الفاروق بعدہ عمر ثم ذوالنورین عثمان بن عفان ثم امیرالمومنین وامام المتقین علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہم اجمعین‘‘ (صریح السنہ:۲۴) اور اسی طرح ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ میں سب سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، پھر عمر، پھر عثمان اور پھر علی رضی اللہ عنہم ہیں۔

یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ابن جریر مذکور شیعہ نہیں بلکہ سنی تھے۔ ان کے بارے میں مامقانی رافضی کہتا ہے کہ ’’عامی لم یوثق‘‘ (تنقیح المقال۱؍۱۳۴)

تنبیہ:         ابن جریر کے ثقہ ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تاریخ طبری کی تمام روایات صحیح ہیں، بلکہ ابن جریر سے لے کر اوپر تک ساری سند کا صحیح ہونا ضروری ہے۔ میں نے تاریخ طبری کی جو تحقیق کی ہے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس کتاب کا نوے (۹۰) فیصد حصہ موضوع و باطل ہے جس کی وجہ مجروح راوی ہیں، جن سے طبری نے روایات لے کر اپنی کتاب میں درج کررکھی ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص422

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)