فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13781
(182) غنیۃ الطالبین اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 January 2015 02:36 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ’’غنیۃ الطالبین‘‘ نامی کتاب شیخ عبدالقادر جیلانی سے ثابت شدہ ہے اور شیخ عبدالقادر جیلانی کا محدثین اور ائمۂ جرح و تعدیل کے نزدیک کیا مقام ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غنیۃ الطالبین کتاب کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے لیکن حافظ ذہبی (متوفی ۷۴۸ھ) اور ابن رجب الحنبلی (متوفی۷۹۵ھ) دونوں اسے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی کتاب قرار دیتے ہیں (دیکھئے کتاب العلوللعلی الغفار اللذہبی ص۱۹۳، الذیل علی طبقات الحنابلۃ لابن رجب ۱؍۲۹۶) اور یہی راجح ہے۔

تنبیہ: مروجہ غنیۃ الطالبین کے نسخے کی صحیح و متصل سند میرے علم میں نہیں ہے۔ واللہ اعلم

شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کا علمائے حدیث و ائمۂ اسلام کے نزدیک بہت بڑا مقام ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’الشیخ الامام العالم الزاھد العارف القدوۃ، شیخ الاسلام، علم الاولیاء۔۔۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء ۲۰؍۴۳۹)

ابومحمد موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ المقدسی الجماعیلی الصالحی الحنبلی صاحب المغنی (متوفی ۶۲۰ھ) نے فرمایا: ’’اخبرنا شیخ الاسلام عبدالقادر بن ابی صالح الجیلی‘‘ (سیر اعلام النبلاء ۲۰؍۴۴۰وسند صحیح)

حافظ ذہبی نے حافظ بن السمعانی (متوفی ۵۶۲ھ) سے نقل کیا کہ انھوں نے اپنے استاذ شیخ عبدالقادر جیلانی کے بارے میں فرمایا: ’’فقیہ صالح دین خیر‘‘ (سیر اعلام النبلاء ۲۰؍۲۰ و تاریخ الاسلام ۳۹؍۸۹)

تنبیہ: یہ عبارت الانساب للسمعانی کے پانچ جلدوں والے مطبوعہ نسخے سے گر گئی ہے۔ واللہ اعلم حافظ ابن النجار نے اپنی تاریخ میں شیخ عبدالقادر کے بارے میں کہا: ’’واوقع لہ القبول العظیم۔۔۔ واظھر اللہ الحکمۃ علی لسانہ‘‘ اور آپ کو قبولِ عظیم حاصل ہوا۔۔۔ اور اللہ نے آپ کی زبان پر حکمت جاری فرمائی۔ (تاریخ الاسلام للذہبی ۳۹؍۹۲ وفیات ۵۶۱ھ)

حافظ ابن الجوزی نے اپنی مشہور کتاب المنتظم میں ان کا ذکر کیا لیکن شدید مخالفت کے باوجود آپ پر کوئی جرح نہیں کی۔ دیکھئے تاریخ الاسلام (۳۹؍۱۸۹) المنتظم (۱۸؍۱۷۳ ت۴۲۵۹)

علمائے حدیث کی ان گواہیوں اور دیگر اقوال سے معلوم ہوا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ ثقہ و صدوق اور نیک آدمی تھے لیکن ان کی اس کتاب میں ضعیف اور موضوع روایات بھی موجود ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص421

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)