فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13690
(91) مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دینا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 November 2014 01:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مسلمان کسی مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دے سکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ مسلمانوں کا جان و مال اور خون مسلمان پر حرام ہے۔ سوال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر دے سکتا ہے تو مسلمان عیسائی کو خون دے سکتا ہے اور کیا عیسائی مسلمان کو خون دے سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان دوسرے مسلمان کی جان بچانے کے لئے خون دے سکتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا

اور جس نے ایک انسان کو بچا لیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو بچا لیا۔ (سورۃ المائدہ: ۳۲)

اس بات کی واضح دلیل ہے۔ رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’’مسلمانوں  کا جان و مال اور خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قتل کرنا حرام ہے نہ کہ یہ ایک تھوڑی مقدار میں کسی ضرورت مند کو خون دے دینا جس سے نہ جسم کو نقصان پہنچتا ہے اور نہ موت واقع ہوتی ہے لہٰذا یہ حدیث صورت مسئولہ پر دلالت نہیں کرتی۔

مسلم کا کافر کو خون دینا یا لینا غبیر کسی مستند عالم دین کے فتوے کے جائز نہیں ہے لہٰذا شدید ضرورت کے وقت اپنے علاقے کے صحیح العقیدہ عالم دین سے اس کے بارے میں پوچھ لیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص244

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)