فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 13601
(02) عیسائیوں کے تین سوالات اور ان کے جوابات( پہلا سوال )
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 November 2014 11:48 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عیسائی نے کچھ سوال دیئے ہیں اور کہا ے کہ اگر آپ میرے سوالوں کے جواب دیں دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔

(پہلا سوال:) عیسیٰ علیہ السلام ماں کی گود میں بولے۔ (آپ کے) نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں بولے۔ ابت ہوا عیسیٰ بڑے ہیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی کنواری والدہ سیدہ مریم علیھا السلام پر یہودیوں کی طرف سے زنا کی تہمت لگی کیونکہ وہ چند دن کا چھوٹا سا ننھا بچہ گود میں لے کر آگئی تھیں۔ اب ضروری تھا کہ اس تہمت کا مضبوط اور محیر العقول طریقے سے جواب دیا جائے لہٰذا سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اس حالت معصومیت میں کلام اور اپنی نبوت کا اعلان کرکے اپنی ماں  کی بے گناہی ثابت کر دی۔

ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی والدۂ محترمہ اور والد بزرگوار سب لوگوں کو معلوم تھے، آپ کی والدہ پر کوئی تہمت نہیں لگی تھی لہٰذا ایسی صفائی کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ معصوم بچہ گود میں گواہی دے کر آپ کی والدہ کی براءت ثابت کر دے۔ گواہی اور براءت کی وہاں ضرورت ہوتی ہے جہاں تہمت اور اعتراض ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ گود میں معصوم بچے کا بولنا افضیلت کی دلیل نہیں ورنہ یہ ثابت ہے کہ جریج راہب کی براءت کے لئے معصوم بچہ بولا تھا۔ کیا جریج راہب کے سامنے بولنے والے بچے کو اُن انبیاء مثلاً سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا یعقوب علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت دی جائے گی جن کا ماں کی گود میں بولنا ثابت نہیں ہے؟ معلوم ہوا کہ سائل کے سوال کی بنیاد ہی غلط ہے۔

مسلمانوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے تمام سچے رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے۔ جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ ک سچے رسول اور بندے ہیں، اسی طرح سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے سیدنا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول اور بندے ہیں۔ 

رسول کی فضیلت کی اصل بنیاد رسالت ہوتی ہے۔ ہمارے رسول کی رسالت ان کی اپنی مادری زبان میں قرآنِ مجید کی صورت میں دنیا میں موجود ہے لیکن عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت یعنی انجیل ان کی مادری زبان میں کہیں موجود نہیں ہے۔ پولس کے پیروکار عیسائیوں کا یونانی زبان میں متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی بے سند انجیلیں پیش کرنا کئی وجہ سے غلط ہے:

(۱)          سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی مادری زبان یونانی نہیں بلکہ آرامی تھی۔

(۲)         متی کی طرف منسوب انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ ’’یسوعؔ نے وہاں سے آگے بڑھ کر متی نام ایک شخص کو محصول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا اور اس سے کہا میرے پیچھے ہولے۔ وہ اُٹھ کر اس کے پیچھے ہولیا۔‘‘ (متی باب ۹ فقرہ: ۹، پرانا اور نیا عہد نامہ، بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور ص۱۱، ۱۲، نیز دیکھئے کلام مقدس کا عہد عتیق و جدید، سوسائٹی آف سینٹ پال روما ۱۹۵۸ء ص۱۳)

معلوم ہوا کہ متی کی طرف منسوب انجیل کا مصنف متی نہیں ہے یا پھر متی س اس کے راوی کا نام معلوم نہیں ہے۔

(۳)         مرقس اور لوقا دونوں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے شاگرد و حواری نہیں ہیں۔ یوحنا اور پطرس دونوں ان پڑھ تھے۔ دیکھئے اعمال ب ۴ فقرہ: ۱۳، عہد نامۂ جدید ص۱۱۱

ملوم ہوا کہ یوحنا کی انجیل بھی یوحنا حواری حواری کی لکھی ہوئی نہیں ہے بلکہ اس کا راوی مجہول ہے اور اس انجیل کے پخر میں لکھا ہوا ہے کہ ’’یہ وہی شاگرد ہے جو ان باتوں کی گواہی دیتا ہے اور جس نے ان کو لکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس کی گواہی سچی ہے۔‘‘ (یوحنا ب۲۱ فقرہ: ۲۴، عہد نامۂ جدید ص۱۰۷)!

(۴)         مسلمانوں کے پاس اپنے نبی کی سیرت اور اقوال صحیح متصل سندوں کے ساتھ موجود ہیں لیکن پولسی عیسائیوں کے پاس سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت صحیح متصل سند سے موجود نہیں ہے۔

تنبیہ:        پولس نے لکھا ہے: ’’مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا………‘‘ (گلیتوں کے نام پولس کا خط ب۳ فقرہ: ۱۳، عہد نامۂ جدید ص۱۸۰)

اس عبارت میں پولس نے دو باتیں لکھی ہیں:

اول:         سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر لعنتی کا فتویٰ (العیاذ باللہ)

یاد رہے کہ مسلمانوں کے نزدیک کوئی نبی لعنتی نہیں تھا بلکہ سب انبیاء اور رسول ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور افضل ترین انسان تھے۔

دوم:         شریعت سے چھڑایا جانا

اس کے برعکس متی کی طرف منسوب انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ’’یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔‘‘ (ب۵ فقرہ: ۱۷، ۱۸، عہد نامۂ جدید ص۸)

اس ساری بحث سے معلوم ہوا کہ سائل نے جس چیز کو بڑائی کی بنیاد بنایا ہے وہ درست نہیں اور جو امور خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی افضیلت پر دلالت کرتے ہیں انھیں نظر انداز کر دیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص35

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)