فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 13600
(01) کیا اہلِ حدیث نام صحیح ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 November 2014 10:49 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم اہلحدیث کیوں ہیں؟ ہم مسلمین (مسلمان) کیوں نہیں ہیں؟ کیا کوئی صحابی اہلحدیث تھا؟ یا اس نے اپنا نام اہلحدیث رکھا ہو؟ دلائل سے واضح کریں ہم اہلحدیث کیوں ہیں؟ (جزا کم اللہ خیرا) یہ سوال ’’جماعت المسلمین‘‘ (فرقہ مسعودیہ) کی طرف سے ہے اور بخاری کی حدیث بھی پیش کی ہے کہ جماعت المسلمین اور اس کے امام کو لازم پکڑو۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

’’مسلمین‘‘ مسلم کی جمع ہے اور بالاجماع مسلم مسلمان و مطیع و فرمان برادر کو کہتے ہیں۔ مسلمانوں کے بہت سے نام اور القاب ہیں۔ مثلاً مہاجرین، انصار، صحابہ و تابعین وغیرہ، ایک صحیح حدیث میں آیا ہے:

«فادعوا بدعوی الله الذی سما کم المسلمین المؤمنین عباد الله»

پس پکارو، اللہ کی پکار کے ساتھ جس نے تمھارے نام مسلمین، مومنین (اور) عباد اللہ رکھے ہیں۔ (سنن ترمذی (۲۸۶۳) وقال: ’’حسن صحیح غریب‘‘ و صححہ ابن حبان (موارد ۱۵۵۰-۱۲۲۲) و الحاکم (۱۱۷/۱، ۱۱۸، ۲۳۶، ۴۲۱، ۴۲۲) ودافقہ الذہبی)

اس کی سند صحیح ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔

موسیٰ بن خلف ابو خلف عن یحییٰ بن ابی کثیر …… الخ کی روایت میں آیا ہے:

«فادعوا المسلمین باسمائهم بما سما هم الله عزوجل المسلمین المؤمنین عباد الله عزوجل»

مسلمانوں کو ان کے ناموں مسلمین، مومنین (اور) عباد اللہ عزوجل سے پکارو جو کہ اللہ عزوجل نے ان کے نام رکھے ہیں۔ (مسند احمد ۱۳۰/۴ ح۱۷۳۰۲ و اللفظ لہ ۲۰۲/۴ ح۱۷۹۵۳، وسندہ حسن)

اس روایت کی سند حسن لذاتہ ہے۔ اس کے ایک راوی ابو خلف موسیٰ بن خلف ہیں جو جمہور محدثین کے نزدیک موثق ہیں لہٰذا صدوق حسن الحدیث ہیں۔

مسند احمد (۲۴۴/۵ ح۲۳۲۹۸) میں اس کا ایک صحیح شاہد یعنی تائید والی روایت بھی ہے، لہٰذا روایت مذکورہ بالکل صحیح ہے۔ والحمدللہ

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے اور بھی نام ہیں لہٰذا بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ’’ہمارا نام صرف ایک: مسلم‘‘ ہے، غلط اور باطل ہے۔

صحیح مسلم کے مقدمے میں مشہور تابعی محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول لکھا ہوا ہے کہ

فینظر الی اهل السنة فیؤخذ حدیثهم‘‘

پس اہل سنت کی طرف دیکھا جاتا تھا اور ان کی حدیث قبول کی جاتی تھی۔ (باب ۵ حدیث نمبر ۲۷ ترقیم دارالسلام)

اس قوت کے راویوں اور امام مسلم کی رضا مندی سے یہ قول موجود ہے۔ صحیح مسلم ہزاروں لاکھوں علماء نے پڑھی ہے مگر کسی نے اس قول پر اعتراض نہیں کیا کہ مسلمانوں کا نام اہل سنت غلط ہے۔ معلوم ہوا کہ اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اہل سنت نام صحیح ہے۔

ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ طائفۂ منصورہ ہمیشہ غالب رہے گا۔ اس کی تشریح میں امام بخاری فرماتے ہیں: ’’یعنی اھل الحدیث‘‘

یعنی اس سے مراد اہل الحدیث ہیں۔ (مسألۃ الاحتجاج بالشافعی للخطیب ص۴۷ و سندہ صحیح)

امام بخاری کے استاد علی بن عبداللہ االمدینی ایسی ردایت کی تشریح میں فرماتے ہیں:’’هم اهل الحدیث‘‘ وہ اہل الحدیث ہیں۔ (سنن الترمذی، ابواب الفتن باب ماجاء فی الائمۃ المصلین ح۲۲۲۹ نسخہ عارضۃ الاحوذی: ۷۴/۹ و سندہ صحیح)

امام قتیبہ بن سعید نے فرمایا:

’’اذا رایت الرجل یحب اهل الحدیث ……… فانه علی السنة‘‘ الخ

اگر تو کسی آدمی کو دیکھے کہ وہ اہل الحدیث سے محبت کرتا ہے تو (سمجھ لے کہ) وہ شخص سنت پر (چل رہا) ہے۔ (شرف اصحاب الحدیث للخطیب ص۱۳۴ ح۱۴۳ و سندہ صحیح)

احد بن سنان الواسطی نے فرمایا:

لیس فی الدنیا مبتدع الاوهو یبغض اهل الحدیث‘‘

دنیا میں کوئی بھی ایسا بدعتی نہیں ہے جو کہ اہل الحدیث سے بغض نہیں رکھتا۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص۴ و سندہ صحیح)

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:

ان لم تکن هذه الطائفة المنصورة اصحاب الحدیث فلا ادری من هم‘‘

اگر اس طائفۂ منصورہ سے مراد اصحاب الحدیث نہیں ہیں تو پھر میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص۲ و صححہ ابن حجر فی فتح الباری ۲۵۰/۱۳)

حص بن غیاث نے اصحاب لاحدیث کے بارے میں کہا:

’’هم خیر اهل الدنیا‘‘ یہ دنیا میں بہترین لوگ ہیں۔ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص۳ و سندہ صحیح)

امام شافعی فرماتے ہیں:

’’اذا رأیت رجلا من اصحاب الحدیث فکاني رأیت النبی صلی الله علیه وسلم حیاً‘‘

جب میں اصحاب الحدیث میں سے کسی شخص کو دیکھتا ہوں، تو گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ دیکھتا ہوں۔ (شرف اصحاب الحدیث للخطیب ص۹۴ ح۸۵ و سندہ صحیح)

المحدث الصدوق امام ابن قتیبہ الدینوری (متوفی ۲۷۶ھ) نے ایک کتاب لکھی ہے:

’’تاویل مختلف الحدیث فی الرد علی أعداء أهل الحدیث‘‘

اس کتاب میں انھوں نے ’’اہل الحدیث‘‘ کے اعداء (دشمنوں) کا زبردسترد کیا ہے۔ یہ تمام اقوال محدثین کے درمیان بلا انکار بلا اعتراض شائع و ذرائع اور مشہور ہیں۔ 

لہٰذا معلوم ہوا کہ ’’اہل الحدیث‘‘ کے نام کے جائز و صحیح ہونے پر ائمہ مسلمین کا اجماع ہے۔ اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ امت مسلمہ گمراہی پر اجماع نہیں کرسکتی۔

قل رسول الله صلی الله علیه وسلم: «لا یجمع الله امتی اوقال: هذا الامة علی الضلالة ابداً وید الله علی الجماعة»

اللہ میری امت کو – یا فرمایا اس امت کو گمراہی پر کبھی جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت (اجماع) پر ہے۔ (المستدرک ۱۱۶/۱ ح۳۹۸، ۳۹۹و سندہ صحیح)

ان چند دلائل مذکورہ سے معلوم ہوا کہ مسلمین کا صفاتی نام اور لقب اہل الحدیث و اہل السنۃ بھی ہے اور یہی گروہ طائفۂ منصورہ ہے۔

اہل الحدیث کے دو ہی مفہوم ممکن ہیں:

(۱)          صحیح العقیدہ محدثین کرام

(۲)         صحیح القعیدہ عوام جو محدثین کے منہج پر ان کی اقتداء بالدلیل کرتے ہیں۔

دیکھئے: مقدمۃ الفرقۃ الجدیدہ (ص۱۹) و مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ (۹۵/۴)

یہ بات ثابت شدہ ہے کہ طائفہ منصورہ جنت میں جائے گا کیونکہ یہ اہل حق ہیں تو کیا صرف محدثین کرام ہی جنت میں جائیں گے اور ان کے عوام باہر دروازے پر ہی رہ جائیں گے؟

معلوم ہوا کہ طائفۂ منصورہ میں محدثین اور ان کے عوام دونوں ہی شامل ہیں۔ قرآن و حدیث کو اپنی عقل سے سمجھنے والے اور منکرِ اجماع مسعود احمد بی ایس سی تکفیری نے لکھا ہے:

’’ہم بھی محدثین کو اہل الحدیث کہتے ہیں۔ زبیر صاحب کا مذکورہ بالاقول ہماری تائید ہے نہ کہ تردید۔‘‘ (الجماعۃ المقدیمۃ بجواب الفرقۃ الجدیدہ ص۵)

حدیث بیان کرنے والوں کو محدثین کہتے ہیں۔ یہ عوام المسلمین کو بھی معلوم ہے صحابہ و تابعین نے احادیث بیان کی ہیں لہٰذا ثابت ہوا کہ صحابہ و تابعین سب محدثین (اہل الحدیث) تے۔

مسعود صاحب پر ایک نئی ’’وحی‘‘ نازل ہوئی ہے، وہ متکبرانہ اعلان کرتے ہیں کہ

’’محدثین تو گزر گئے اب تو وہ لوگ رہ گئے ہیں جو ان کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں۔‘‘ (الجماعۃ القدیمہ ص۲۹)

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے برادر محترم ڈاکٹر ابو جابر الدامانوی فرماتے ہیں:

’’گویا موصوف کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے اسی طرح محدثین کا سلسلہ بھی کسی خاص محدث پر ختم ہوچکا ہے اور اب قیامت تک کوئی محدث پیدا نہیں ہوگا اور اب جو بھی آئے گا وہ صرف ناقل ہی ہوگا۔ جس طرح لوگوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا۔ کسی نے بارہ کے بعد ائمہ کا سلسلہ ختم کر دیا۔ موصوف کا خیال ہوگا کہ اسی طرح محدثین کی آمد کا سلسلہ بھی اب ختم ہوچکا ہے لیکن اس سلسلہ میں انھوں نے کسی دلیل کا ذکر نہیں کیا، اقوال الرجال تو ویسے ہی موصوف کی نگاہ میں قابل التفات نہیں ہیں البتہ اپنے ہی قول کو انھوں نے اس سلسلہ میں حجت مانا ہے۔ حالانکہ جو لوگ بھی فن حدیث کے ساتھ شغف رکھتے ہیں ان کا شمار محدثین کے زمرے میں ہوتا ہے۔‘‘ (خلاصۃ الفرقۃ الجدیدہ ص۵۵)

صحیح بخاری (۷۰۸۴) والی حدیث: ’’تلزم جماعة المسلمین و امامهم‘‘

جماعت المسلمین اور اس کے امام کو لازم پکڑو۔

اس حدیث پر امام بخاری کے لکھے ہوئے باب ’’کیف الأمر إذا لم تکن جماعة‘‘ کی تشریح میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:

’’والمعنی ما الذي یفعل المسلم في حال الإختلاف من قبل أن یقع الإجماع علی خلیفة‘‘ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ایک خلیفہ پر اجماع ہونے سے پہلے حالتِ اختلاف میں مسلمان کیا کرے؟ (فتح الباری ۳۵/۱۳ ح۷۰۸۴)

عینی حنفی لکھتے ہیں:

’’وحاصل معنی الترجمة أنه إذا وقع اختلاف ولم یکن خلیفة فکیف یفعل المسلم من قبل أن یقع الإجتماع علی خلیفة‘‘ اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اختلاف ہو جائے اور خلیفہ نہ ہو تو خلیفہ پر اجماع سے پہلے مسلمان کیا کرے گا؟ (عمدۃ القاری ج۲۴ ص۱۹۳ کتاب الفتن)

’’جماعۃ‘‘ کی تشریح میں قسطلانی لکھتے ہیں:

’’مجتمعون علی خلیفة‘‘ ایک خلیفہ پر جمع ہونے والے۔ (ارشاد الساری ج۱۰ ص۱۸۳)

ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی (متوفی ۶۵۶ھ) لکھتے ہیں:

’’یعني: أنه متی اجتمع المسلمون علی إمام فلا یخرج علیه و إن جار کما تقدم و کما فی الروایة الأخری: فاسمع وأطع، وعلی هذا فتشهد مع أئمة الجور الصلوات و الجماعات و الجهاد و الحج و تجتنب معاصیهم ولا یطاعنون فیها‘‘ یعنی: جب بھی تمام مسلمان کسی امام (خلیفہ) پر جمع ہو جائیں تو اس کے خلاف خروج نہیں کیا جائے گا اگرچہ وہ ظالم ہو، جیسا کہ گزر چکا ہے اور جیسا کہ دوسری روایت میں آیا ہے: پس نو اور اطاعت کرو (اگرچہ وہ تمھاری پیٹھ پر مارے) اس حدیث کی رو سے نمازیں، جماعتیں، جہاد اور حج (وغیرہ) ظالم حکمرانوں کے ساتھ مل کر ادا کی جاتی ہیں۔ اُن کے گناہوں سے اجتناب کیا جاتا ہے اور ان پر طعن نہیں کیا جاتا۔ (المفہم لما اشکل من تخلیص کتاب مسلم ج۴ ص۵۷)

قرطبی مزید فرماتے ہیں:

’’فلو بایع أهل الحل و العقد لواحد موصوف بشروط الإمامة لا نعقدت له الخلافة و حرمت علی کل أحد المخالفة‘‘

پس اگر (تمام) اہلِ حل و عقد امامت کے کسی مستحق کی بیعت کرلیں تو اس کی خلافت قائم ہو جاتی ہے اور ہر ایک پر اس کی مخالت حرام ہو جاتی ہے۔ (المفہم ج۴ ص۵۷، ۵۸)

شارحینِ حدیث کی ان تشریحات سے معلوم ہوا کہ جماعت المسلمین اور ان کے امام سے مراد خلافت اور خلیفہ ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«فإن لم تجد یومئذ خلیفة فاهرب حتی تموت» الخ

پس اگر تو اس دن خلیفہ نہ پائے تو موت تک کے لئے بھاگ جا۔ (سنن ابی داود: ۴۲۴۷ و صحیح ابی عوانہ ۴۷۶/۴ و سندہ حسن، صخر بن بدروثقہ ابن حبان و ابو عوانہ وسبیع بن خالد و ثقہ العجلی و ابن حبان وللحدیث شواہد)

ایک اہم فائدہ:

ابن بطال القرطبی (المتوفی ۴۴۹ھ) نے کہا:

’’فیاذا لم یکن لهم إممام فافترق أهل الإسلام أحزاباً فواجب اعتزال تلک الفرق کلها‘‘

پس جب ان لوگوں کا امام (خلیفہ) نہ ہو اور اہلِ اسلام احزاب (پارٹیوں) میں بٹ جائیں تو ان تمام فرقوں سے دور ہو جانا واجب (فرض) ہے۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال ۳۲/۱۰)

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ اس حدیث سے دو قسم کے لوگوں نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے:

۱)            وہ لوگ جنھوں نے ’’جماعت المسلمین‘‘ کے نام سے ایک کاغذی پارٹی (حزب) بنائی اور ایک عام آدمی اس کا امام بن گیا حالانکہ یہ پارٹی خلافت مسلمین نہیں ہے اور اس کا نام نہاد امام خلیفہ نہیں ہے۔

۲)           وہ لوگ جنھوں نے ایک کاغذی خلیفہ بنایا جس کے پاس نہ فوج ہے اور نہ کوئی طاقت اس کاغذی خلیفہ کا ایک انچ زمین پر قبضہ نہیں ہے۔ اس خلیفہ نے نہ کفار سے جہاد کیا، نہ شرعی حدود کا نفاذ کیا، اسے خلیفہ کہنا خلافت کے ساتھ مذاق ہے۔

سورۂ بقرہ کی آیت: ۳۰ کی تشریح میں حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

’’وقد استدال القرطبي وغیرہ بهذه الآیة علی وجوب نصب الخلیفة لیفصل بین الناس فیما یختلفون فیه و یقطع تنازعهم و ینتصر لمظلومهم من ظالمهم و یقیم الحدود و یزجر عن تعاطی الفواحش‘‘

قرطبی وغیرہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ خلیفہ قائم کرنا واجب ہے تاکہ لوگوں کے درمیان اختلافات میں فیصلہ کرے اور جھگڑے ختم کر دے۔ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد کرے، حدود کا نفاذ کرے اور بے حیائی، فحاشی کے کاموں سے روکے۔ (تفسیر ابن کثیر ۲۰۴/۱)

قاضی ابو یعلیٰ محمد بن الحسین الفراء اور قاضی علی بن محمد حبیب المادردی نے بھی خلیفہ کے لئے جہاد، سیاست اور اقامتِ حدود کو شرط قرار دیا ہے۔ دیکھئے الاحکام السلطانیہ (ص۲۲)

والاحکام السلطانیہ للماوردی (ص۶) اور ماہنامہ الحدیث: ۲۲ ص۳۹

ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں: ’’ولأن المسلمین لا بدلهم من إمام یقوم بتنفیذ أحکامهم وإقامة حدود هم و سد ثغورهم و تجهیز جیوشهم وأخذ صدقاتهم……‘‘ مسلمانوں  کا ایسا امام (خلیفہ) ہونا ضروری ہے جو احکام نافذ کرے، حدود قائم کرے، سرحدوں کی حفاظت کرے، لشکر تیار کرے اور لوگوں سے صدقات (قوت کے ساتھ) وصول کرے۔ (شرح الفقہ الاکبر ص۱۴۶)

علمائے کرام کی ان تشریحات کے سراسر خلاف ایک کاغذی خلیفہ بنانا جو اپنے گھر میں شرعی حدود قائم کرنے سے عاجز ہو اور اپنے گھر کی دیواروں کی حفاظت نہ کرسکتا ہو (وغیرہ) ان لوگوں کا کام ہے جو امت مسلمہ میں فرقہ پرستی اور باطل نظریات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

ایک حدیث میں آیا ہے: «من مات ولیس له إمام مات میتة جاهلیة»

جو شخص فوت ہو جائے اور اس کی گردن میں امام (خلیفہ) کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔ (السنہ لابن ابی عاصم ۱۰۵۷، و سندہ حسن، نیز دیکھئے صحیح مسلم: ۱۸۵۱)

اس کی تشریح میں امام احمد فرماتے ہیں: ’’تدري ما الإمام؟ الذي یجتمع المسلمون علیہ، کلھم یقول: ھذا إمام، فھذا معناہ‘‘

تجھے پتا ہے کہ (اس حدیث میں) امام کسے کہتے ہیں؟ جس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہو جائے۔ ہر آدمی یہی کہے کہ یہ امام (خلیفہ) ہے، یہ ہے اس حدیث کا معنی۔ (سوالات ابن ہانی ص۱۸۵ فقرہ: ۲۰۱۱، السنۃ للخلال ص۸۱ فقرہ: ۱۰، المسند من مسائل الامام احمد، ق:۱، بحوالہ الامامۃ العظمی عند اہل السنۃ و الجماعۃ ص۲۱۷)

متصر یہ کہ امام اور جماعت المسلمین والی احادیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض الناس کا کاغذی جماعتیں اور کاغذی امیر بنانا بالکل غلط ہے اور سلف صالحین کے فہم کے سراسر خلاف ہے۔

بعض لوگ ’’اہلِ حدیث‘‘ نام سے بہت چڑتے ہیں اور عوام الناس میں یہ مشہور کرنے کی سعی نامراد کرتے ہیں کہ ’’یہ نام فرقہ وارانہ ہے چونکہ ہم مسلمان ہیں لہٰذا ہمیں مسلمان ہی کہلانا چاہیے‘‘ لہٰذا ہم نے اپنے اسلاف، محدثین اورائمۂ کرام سے متعدد دلائل پیش کئے ہیں کہ اہلِ حدیث کہلانا نہ صرف جائز ہے بلکہ پسندیدہ بھی ہے اور یہی طائفۂ منصورہ ہے۔ (دیکھئے علمی مقالات ج۱ ص۱۷۴-۱۶۱) [الحدیث: ۲۹]

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص27

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)