فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 13575
(23) علم غیب اور دست شناسی
شروع از رانا ابو بکر بتاریخ : 29 October 2014 05:19 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض لوگ دست شناسی کے جواز کے قائل ہیں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مطلب ہے۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دست شناسی کو جائز قرار دینا کتاب و سنت کی نصوص صریحہ کے سراسر منافی ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق علم غیب کیساتھ ہے علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے جیسا کہ فرمایا:

﴿وَعِندَهُ مَفاتِحُ الغَيبِ لا يَعلَمُها إِلّا هُوَ﴾ ( الانعام:59)

اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔

﴿قُل لا يَعلَمُ مَن فِي السَّماواتِ وَالأَر‌ضِ الغَيبَ إِلَّا اللَّـهُ ۚ وَما يَشعُر‌ونَ أَيّانَ يُبعَثونَ ﴾ ( النمل:65)

کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟ -

﴿إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلمُ السّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الغَيثَ وَيَعلَمُ ما فِي الأَر‌حامِ ۖ وَما تَدر‌ي نَفسٌ ماذا تَكسِبُ غَدًا ۖ وَما تَدر‌ي نَفسٌ بِأَيِّ أَر‌ضٍ تَموتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَليمٌ خَبيرٌ‌﴾ لقمان:34)

بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں والا ہے -

﴿يَسأَلونَكَ عَنِ السّاعَةِ أَيّانَ مُر‌ساها ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ رَ‌بّي ۖ لا يُجَلّيها لِوَقتِها إِلّا هُوَ ۚ ثَقُلَت فِي السَّماواتِ وَالأَر‌ضِ ۚ لا تَأتيكُم إِلّا بَغتَةً ۗ يَسأَلونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنها ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ اللَّـهِ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ‌ النّاسِ لا يَعلَمونَ ﴾ (الاعراف:187)

یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ظاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

﴿قُل لا أَملِكُ لِنَفسي نَفعًا وَلا ضَرًّ‌ا إِلّا ما شاءَ اللَّـهُ ۚ وَلَو كُنتُ أَعلَمُ الغَيبَ لَاستَكثَر‌تُ مِنَ الخَيرِ‌ وَما مَسَّنِيَ السّوءُ ۚ إِن أَنا إِلّا نَذيرٌ‌ وَبَشيرٌ‌ لِقَومٍ يُؤمِنونَ﴾ ( الاعراف:88)

آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں -

 تشریح:۔

 پہلی آیت کی مزید تفسیر تیسری آیت میں کر دی گئی ہے کہ مفاتیح الغیب سے مراد یہ پانچ چیزیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے نے بھی ان کو مفاتیح الغیب قرار دیا ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا-

(1) قیامت کب آئے گی؟۔۔۔۔ قرب قیامت کی علامات تو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں لیکن قیامت کے وقوع کا قطعی اور یقینی علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں کسی فرشتے کو، نبی مرسل کو۔

(2)بارش کب آئے گی؟۔۔۔ بارش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے آثار و آلائم سے تخمینہ تو لگایا جاتا اور لگایا جا سکتا ھے لیکن یہ بات ہر شخص کے مشاہدہ اورتجربہ میں آ چکی ہے کہ یہ تخمینے کبی صحیح نکلتے ہیں اور کبی غلط۔ یہاں تک کہ محکمہ موسمیات کے اعلانات کے باوجود بارش کی ایک بوبد بھی نہیں برستے جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ بارش کا قطعی اور یقینی علم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علاوہ کسی کو نیہں۔

(3)ماوں کے رحموں میں کیا ہے کیا نہیں؟آج کے مشینے آلات سے رحم مادر میں مذکر و مونث کا ناقص اندازہ تو شاید ممکن ہے کہ بچہ ہے یا بچی؟ مگر یہ بچہ زندہ پیدا ہو گا یا مردہ  ، طویل عمر کا ہو گا یا مختصر عمر پائے گا ۔ ناقص ہو گا یا کامل، خوب رو ہو گا یا بدصورت، خوش بخت ہو گا یا یا بدبخت امیر ہو گا یا قلاش صاحب اولاد ہو گا ےا بے اولاد مامن ہو گا ےا کافر عالم ہو گا یا جاہل وغیرہ باتوں کا علم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا

(4)  انسان کل کیا کرے گا؟۔۔ وہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا ، کتنے نکاح کرے گا یا مجرد ہی رہے گا کیا پاےئ گا اور کیا کھوئے گا اس کی دنیاوی تگو تاز کا انجام کیا ہو گا کسی دست شناس اور فٹ پاتھ پر بیٹھے علم نجوم نام نہاد پروفیسروں و آنے والے کال کے بارے میں کچھ بھی علم نھیں سید نا قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ستارے تین مقاصد کیلیے بنائے ہیں ۔ آسمان کی زینت راہنمائے کا ذریعہ اور ابلیس کو گولہ مارنے کیلیے، لیکن اللہ کے احکام سے ان جاہل نجومیوں کو اور نام نہاد دست شناسوں نے ان سے غیب کا علم حاصل کرنے ( کہانت) کا ڈھونگ رچایا ہے مثلاً کہتے ہیں کہ فلاں ستارہ سعد ہیں فلاں نجس ہے فلاں ستارے کے طلوع پر جو بچہ پیدا ہوگا وہ خوش نصیب ہو گا فلاں ستارے کے وقت پیدا ہونے والا بچی بدنصیب ہو گا وغیرہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں ان کے ان قیاسیات کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے۔ ستاروں پرندوں اور جانوروں سے علم غیب آخر کس طرح حاصل ہو سکتا ہے؟ جب کہ اللہ تعالیٰ کا سورہ نمل کی آیت 5 میں فیصلہ تو یہ ہے کہ آسمان و زمیں میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا خود ان علم نجوم کے ٹھیکیداروں اور دست شناسی کے مدعیوں کو یہ تک علم نہیں کہ آنے والا کال ان کی زندگی میں آئے گا یا نہیں اور اگر آئے گا تو وہ کیا کریں گے؟ کیا پائیں گے کیا کھوءییں گے؟

(5) موت کہاں اور کیسی آئے گی؟....گھر میں آئے گی ےا گھر سے باہر دیس میں آئے گی یا پردیس میں حسرتوں کے حصول کے بعد آئے گی یا حسرتیان ناکام لیے مریں گے اور سورہ اعراف کی اآیت نمبر 188 اس بات میں کتنی اوصاف اور واضح ہے کہ رسول اللہ ﷺ عالم الغیب نہیں ۔ عالم الغیب اللہ کے سوا کوئی نہیں مگر ظلم اور جہالت کی انتہا ہے کہ شرک و بدعت کے رسیا لوگ رسول اللہ ﷺ کو عالم غیب باور کراتے پھرتے ہیں کیا یہ حقیقت نہیں کہ غزوہ احد میں آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے سیوہ عائشہ  پر تہمت لگی اور آپﷺ اس وجہ سے پورا مہینہ پریشان رھے۔ زینب نامی یہودیہ عورت نے آپ ﷺ کو اور صحابہکرام  کو زہر ملا کھانا کھلا دیا جس کی تکلیف آپﷺ عمر بھر محسوس فرماتے رہے اور ایک صحابی اس  زہریلے کھانے کیوجہسے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ اور اس قسم کے کئی اور واقعات بھی احادیث و سیر کی کتابون میں مرقوم ہیں جن سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ یہ تکلیفیں اور نقصانات عدم علم کیوجہ سے اٹھانے پڑے۔ اور قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کا اثبات ہوتا ھے کہ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بھت سے منافع اپنے دامن میں سمیٹ لیتا اور کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا۔

سیدہ عائشہ  کا ؤضاحتی بیان:

من حدثك ان محمدا رأى ربه فقد كذب وهو يقول (لاترركه الابصار ) ومن حدثك انه يعلم الغيب فقد كذب وهو يقول لا يعلم الغيب الاالله. (صحيح البخارى)

 کہ جو شخص آپ سے یہ کہے کہ محمد ﷺ نے رب تعالیٰ کو دیکھا ہے تو اس نے جھوٹ بالا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ آنکھیں اس کو نھیں پاتیں اور اسی طرح جو شخص یہ کہےکہ آپﷺ غیب جانتے تھے تو اس نے جھوٹ بولاکیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا

حنفی فقیہ اور مفتی کردری کا فتویٰ: نجومیوں دست شناسوں اور رسول اللہﷺ کو غیب دان باورکرانے والے کی اطلاع کیلیے امام محمد بن المعروف ابن البزار الکردی  المتوفیٰ847ھ کا فتویٰ زیب قرطاس ہے۔

ان تزوجها بشهادة الله ورسوله اعلم لا ينعقد ويخاف عليه الكفر لانه يوهم انه عليه السلام ﴿وعنده مفاتيح الغيب .... الاية ﴾ وما اعلم الله الخيار عباده بالوحى او الالهام الحق لم بيق بعد الاعلام غيبا فخرج عن الحصرين الستفادين من تقديم المسند والحصير بالا. (كتاب النكاح فصل سادس فى الشهود حاشيه فتاوىٰ عالم گیری ج4ص119)

کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کوگواہ بنا کر نکاح کرے گا تو ایسا نکاح منعقد نہیں ہو گا اور ڈر ہے کہ یہ شخص عنداللہ کافر ہو جایئے گاکیونکہ اس طرھ وہ باور کروا رھا ہےکہ رسول اللہﷺ غیب جانتے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: غیب کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں اور انہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو کچھ وحی یا سچے الہام کیساتھ اپنے پسندیدہ بندوں کو جتلا دیا ھے وہ بتلا دینے کے بعد علم غیب کی تعریف میں داخل نہیں کیونکہ مسند کو مقدم لانے اور کلمہ حصرالاً کیوجہ سے علم غیب کی تعریف سے خارج ہے۔

قرآن مجید کی ان پانچوں نصوص صریحہ اور احادیث صریحہ و صحیحہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ رسواللہ ﷺ کے حق میں غیب دانی کا وقیدہ رکھنے والے اہل بدعت نجومی اور دست شناس کذاب اور مفتوی ہیں اور حنفی فقیہ علامہ کردری کے مطابق یہ ڈر ہے کہ وہ اس عقیدے کیوجہ سے کافر عنداللہ کافر قرار پائے اور آخر میں نجومیوں ، کاہنوں اور دست شناسوں کی تصدیق کرنے والے خوب ےاد رکھیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

(1)عن حفصة رضى الله عنها قالت رسول اللهﷺ من اتى عرافا فسالة عن شىء لم يقبل له صلوة اربعين ليلة . (رواه مسلم بات الكهانة ص233)

کہ جو شخص کاہن اور نجومی کے پاس گیا اس سے آئندہ کے بارے میں کچھ پوچھا اور اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔

(2) صلح حدیبیہ کے موقع پر جب بارش برسی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

هل تدرون ماذا قال ربكم قالوا الله ورسوله أعلم قال قال أصبح من عبادي مؤمن بي وكافر فأما من قال مطرنا بفضل الله ورحمته فذلك مؤمن بي كافر بالكوكب وأما من قال مطرنا بنوء كذا وكذا فذلك كافر بي مؤمن بالكوكب .(متفق عليه)

کیا تم جانتے ہو کہ کہ تمہارے رب تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں: فرمایا : اللہ نے میرے کہ کچھ بندے مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور کچھ کفر کرنے والے ہیں۔ گس نے یہ کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش برسی ہے، میرے اوپر ایمان لانے والا اور ستارے کیساتھ کفر کرنے والا ہے، اور جس نے یہ کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کیوجہ سے بارش ہوئی ہے وہ میرے ساتھ کفر کرنے اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔

(3)عن ابى هريره ان رسول اللهﷺ قال من اتى كاهنا فصدقه بما يقول .... فقد برى مما انزل على محمد ﷺ . (رواه احمد و ابوداؤد)

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کاہن دست شناس اور نجومی وگیرہ کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو وہ اس شریعت سے بیزار ہو چکا ہے جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہیں۔

یہ ہے کاہنے نجومیوں اور دست شناسوں کی حقیقت اور ان کے پاس جانے والوں کا انجام بد۔ اللہ تعالیٰ ایسے عقائد باطلہ اور افکار فاسدہ سے تمام مسلمانون کو محفوظ رکھی آمین۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص182

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)