فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13558
میت کے لیے اس کے گھر والوں کا صدقہ کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 26 October 2014 03:39 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جس گھر میں  کوئی آدمی  فوت  ہوجاتا  ہے  تو اس کے گھر والے  کھانا تیار  کرکے میت  کے دفن  کے بعد عام  لوگوں  کو کھلاتے  ہیں چاہے  کھانے  والے امیر  ہوں  یا غریب ۔اسے خیرات  کہاجاتا  ہے اور  امید  یہ رکھی  جاتی  ہے کہ  اس طرح سے ثواب  ملے گا ،اس کھانے کی شرعی  حیثیت  کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسا  کھانا  کھلانا بدعت  ہے اور کتاب  وسنت  میں اس کی  کوئی دلیل  نہیں ۔بلکہ  سیدنا جعفر  بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ  کے گھر والوں  کے بارے میں  نبیﷺ نے فرمایا :

 آل  جعفر   کے لیے کھانا  تیار  کرو  کیونکہ  ان پر  ایسی  بات  (مصیبت ) آگئی  ہے  جس نے  انھیں  مشغول  کردیا ہے ۔( سنن ابی  داود: 3132، وسندہ  حسن )

 اس حدیث سے  ثابت  ہوتا ہے کہ  میت  کے  گھر  والے  دوسرے  لوگوں  کے لیے کھانا تیار  نہیں  کریں گے  بلکہ  لوگ  ان کے  لیے  کھانا پکا کر بھیجیں  گے  تاکہ  وہ ان  ایام  غم  میں کھانا  پکانے کی طرف  سے بے فکر رہیں ۔ رہا  مسئلہ ایصال  ثواب  کاتو اس مروجہ  دعوت  طعام  سے کوئی  تعلق  نہیں  ہے بلکہ میت  کی وفات کے تین  دنوں  کے بعد کسی وقت  بھی  میت  کی طرف سے  فقراء ومساکین  مٰں ایصال  ثواب  کیا جاسکتا ہے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج1ص511

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)