فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 13448
رفع یدین کے خلاف ایک بے اصل روایت اور طاہر القادری صاحب
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 October 2014 11:43 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جناب حافظ صاحب بندہ آپ کے "الحدیث کا مطالعہ  کرتا ہے  الحمد للہ  آپ خوب  محنت  شاقہ  سے اس کا اصدار کرتے  ہیں ،اللہ تعالی  اس کو قائم ودائم  رکھے ۔آمین

 پچھلے دنوں  ہمارے ایک محسن  ڈاکٹر طاہر حسین   جو  ہمارے قریب ہی  ٹیکسٹائل  یونیورسٹی  میں لیکچرار ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ  طاہر القادری کی کتاب انٹرنیٹ پر انھوں نے دی ہے ۔ جس کا نام منہاج السوی  انھوں نے رکھا ہے اور اس کے اندر رفع الیدین کی احادیث کو توڑ  مروڑ  کے ذکر کیا ہے تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ ان کاجواب مطلوب ہے  تو الحمدللہ کوشش کرنے کے بعد کتاب نورالعینین  مل گئی  جس میں مطلوبہ  جواب  بھی حاصل  ہوگئے مگر ایک دلیل جو انھوں نے 114  نمبر  پر ذکر کی ہے جس کامتن یہ ہے :

عَن ابْن عَبَّاس أَنه قَالَ: الْعشْرَة الَّذين شهد لَهُم رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بِالْجنَّةِ مَا كَانُوا يرفعون أَيْديهم إلاّ فِي افْتِتَاح الصَّلَاة، قال السمرقندی :وخلاف هؤلاء  الصحابة  قبيح"

 اس کی تخریج انھوں نے کی ہے اخرجہ  السمرقندی فی تحفۃ الفقہاء (1/132۔133)

والکاسانی  فی  بدائع الصناع(1/207) والعینی  فی  عمدۃ القاری شرح  صحیح البخاری (5/272)

 تو  نورالعین میں تلاش  کرنے  سے اس کا جواب  نہیں مل سکا لہذا معذرت سے آپ کو تکلیف دی جاتی ہے کہ اس اثر کی پعری تحقیہق کرکے بندہ کو ارسال کردیں ۔ جوابی لفافہ  ساتھ ہے اور اگر پہلے  یہ آپ کی نظر سے نہیں گزری  تو الحدیث  میں بھی  اس کو تحریر کریں  تا کہ باقی  قارئین  الحدیث  بھی اس سے فائدہ  اٹھائیں ۔ جزاكم الله خيرا في لادنيا والاخرة


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشہور ثقہ امام عبداللہ بن المبارک  المروزی ؒ نے فرمایا :

"الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ»

 اسناد دین میں سے ہیں  (اور)  اگر سند  نہ ہوتی  تو جس کے دل  میں جوآتا کہتا۔

(صحیح مسلم ۔ ترقیم  دارالسلام :32 ماہنامہ  منہاج القرآن  لاہور ج  20  شمارہ :11 نومبر 2006 ص22)

 اس سنہری  قول سے معلوم  ہوا کہ  بےسند  با ت  مردو  ہوتی ہے ۔ادارہ منہاج القرآن  کے بانی   محمد  طاہر القادری صاحب اس کی  تشریح  میں " فرماتے"  ہیں :

" پس روایت حدیث  علم تفسیر اور مکمل  دین کا مدار اسناد پر ہے۔ سند کے بغیر کوئی چیز قبول  نہ کی جاتی  تھی ۔ (ماہنامہ  منہاج القرآن ج20 شمارہ:11ص 23)

اس تمہید  کے بعد عرض  ہے کہ علاء الدین  محمد بن ابی  احمد السمرقندی نے تحفۃ الفقہاء  نامی کتاب میں لکھا ہے  "

وَالصَّحِيح مَذْهَبنَا لما رُوِيَ عَن ابْن عباسرضي الله عَنهُ أَنه قال: ان العشرة الذين بشرلهم  رسول الله صلي الله عليه وسلم  بالجنة  ماكانوا يرفعون  ايديهم  الا لافتتاح  الصلوة’
قال السمرقندي:وخلاف هولاء الصحابة  قبيح "

اور صحیح  ہمارا(حنفی ) مذہب ہے  اس وجہ سے کہ جو ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت  کیا گیا ہے کہ انھوں نے  فرمایا: بے شک  عشرہ مبشرہ  جنھیں  رسول اللہﷺ نے جنت  کی خوش خبری  دی ، وہ شروع نماز کے سوارفع یدین  کرتے تھے۔ سمرقندی  نے کہا :اور ان  صحابہ  کی مخالفت بری(حرکت) ہے ۔(جاص 132۔133، دوسرا نسخہ ص66۔67)

  سمرقندی  کے بعد تقریبا یہی عبارت علاء الدین  ابوبکر بن مسعود الکاسانی  (متوفی 587ھ) نے  بدائع الصنائع فی ترتیب  الشرائع  اپنی کتاب  (ج اص 207) میں اور بدرالدین محمود بن احمد العینی  (متوفی  855ھ) نے  بحوالہ  بدائع الصنائع اپنی کتاب عمدۃ القاری  (ج 5ص 272) میں نقل کررکھی ہے۔ملاکاسانی  نے بدائع الصنائع کے شروع میں یہ اشارہ  کردیاہے کہ انھوں نے اپنے استاد  محمد بن  ابی  احمدالسمرقندی  سے لیکر  اپنی کتاب  مرتب کی ہے۔(ج 1ص2)

معلوم ہوا کہ  اس روایت  کا دارومدار  سمرقندی مذکور پر ہے۔ سمرقندی  صاحب 553 ہجری  میں فوت ہوئے ۔ دیکھئے  معجم  المؤلفین  (ج 3ص 67 ت 11750)

  یعنی  وہ پانچویں یا چھٹی  صدی ہجری  میں پیدا ہوئے  تھے ، فقیر  محمد  جہلمی تقلیدی  نے انھیں  حدیقہ  ششم  (چھٹی  صدی کے  فقہاء وعلماء کے بیان ) میں ذکر کیا ہے (حدائق الخنفیہ ص 267)

 سمرقندی مذکور سے لیکر صدیوں  پہلے  67ھ میں فوت ہونے والے  سیدنا  عبداللہ بنعباس رضی اللہ عنہ  تک  کوئی  سند اور حوالہ  موجود نہیں  ہے لہذا یہ رویت  بے سند اور بے حوالہ  ہونے  کی وجہ سے مردود ہے۔

 تنبیہ  بلیغ: ایسی بے سند وبے حوالہ  روایت کو " اخرجه  السمرقندي  في تحفة  الفقهاء"الخ" اس کی تخریج  سمرقندی  نے تحفۃ الفقہاء  میں کی ہے کہ الخ  کہہ کر  سادہ  لوح  عوام   کو دھوکا  نہیں دینا چاہیے  ۔ لوگ  تو یہ  سمجھیں گے کہ سمرقندی  کوئی بہت بڑا محدث  ہوگا جس نے  یہ روایت  اپنی سند کے ساتھ  اپنی کتاب  تحفۃ  الفقہاء میں نقل  کر رکھی ہے۔حالانکہ  سمرقندی  کا محدث  ہونا ہی ثابت  نہیں ہے بلکہ  وہ ایک  تقلیدی فقیہ  تھا جس نے  یہ روایت  بغیر کسی سند اور حوالے  کے "روی "  کے گول  مول لفظ  سے لکھ رکھی ہے۔اب عوام  میں کس کے پاس وقت ہے کہ  اصل کتاب  کھول  کر تحقیق کرتا پھرے ۔!

عام طور پر غیرثابت  اور ضعیف  روایت   کے لیے صیغہ تمریض " روی"  وغیرہ کے الفاظ  بیان  کئے جاتے ہیں ، دیکھئے  مقدمۃ ابن الصلاح  مع شرح  العراقی (ص 136 نوع 22)

 لہذا جس روایت  کی کوئی سند سرے سے ہی موجود نہ ہو اور پھر بعض  الناس اسے" روی"  وغیرہ  الفاظ  سے بیان  کریں  تو ایسی  روایت  موضوع' بے اصل  اور مردود ہی ہوتی ہے۔

 سمرقندی  وکاسانی  کی پیش  کردہ  یہ بے سند وبے حوالہ  روایت  متن  اور اصؤل روایت  واصول  دروایت  کے لحاظ  سے بھی مردود ہے۔

  دلیل  اول: امام ابوبکر بن ابی شیبہ ؒ (متوفی 235ھ) فرماتے ہیں :

" حدثناب هشيم  قال اخبرنا  ابوجمرة قال  :رايت  ابن عباس  يرفع  يديه  اذا افتتح  الصلوة  واذا ركع واذا رفع  راسه  من الركوع"

 ہمیں ہشیم  نے حدیث  بیان  کی 'کہا: ہمیں  ابو حمزہ  نے خبردی  'کہا: میں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہ)  کو دیکھا  آپ  شروع نماز اور رکوع کرتے  وقت  اور رکوع سے سراٹھاتے  وقت  رفع یدین کرتے تھے۔(مصنف  ابن ابی شیبہ  ج 1ص 235ح12431)

اس روایت  کی سند حسن لذاتہ صحیح  ہے  ۔معلوم  ہوا کہ  سیدنا  عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ  بذات  خود رکوع سے پہلے  اور بعد والا رفع یدین  کرتے تھے لہذا یہ ہوہی نہیں سکتا کہ انھوں  نے رفع یدین  کے خلاف کوئی روایت  بیان رکھی ہو۔ من ادعي  خلافه  فعليه  ان ياتي  بالدليل

دليل دوم:  عشرہ مبشرہ  میں سے  اول صحابی  سیدنا  ابوبکر  الصدیق رضی اللہ عنہ  رکوع سے  پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین  کرتے تھے ۔ دیکھئے  امام بیہقی  کی کتاب  السنن الکبری  (ج2ص 73)

وقال: "رواته ثقات "اس کے راوی  ثقہ (قابل اعتماد) ہیں۔

 تنبیہ  : اس روایت  کی سند بالکل  صحیح ہے اور اس  پر بعض  الناس کی جرح  مردود  ہے ۔ دیکھئے  میری کتاب  نورالعینین  فی مسئلۃ رفع الیدین (ص 119تا121)

 دلیل سوم : سیدنا عمر  بن الخطاب  رضی اللہ عنہ  سے بھی رکوع سے پہلے  اور بعد والا رفع یدین  مروی  ہے ۔ دیکھئے  نصب الرایہ  (ج  1ص 412) ومسند  الفاروق لابن کثیر (ج  1ص 165 ۔166 )

 وشرح  سنن الترمذی  لابن  سیدالناس (قلمی  ج 2ص 217) وسندہ  حسن ' دیکھئے  نو رالعینین  (ص 195تا 204) اس روایت  کی سند حسن  ہے اور یہ روایت  شواہد کے ساتھ  صحیح  لغیرہ  ھہے۔

 دلیل چہارم: سیدنا  ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ  ' سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  اور دیگر  عشرہ مبشرہ  میں سے  ایک صحابی  سے بھی  رکوع سے پہلے  اور بعد والے رفع  یدین  کا ترک  ممانعت  یا منسوخیت  قطعا ثابت  نہیں ہے ،

تنبیہ: طاہر القادری  صاحب نے  سیدنا  ابوبکر  رضی اللہ عنہ ' سیدنا  عمر رضی اللہ عنہ  اور سیدنا  علی رضی اللہ عنہ  سے ترک  رفع  یدین  کی تین  روایات  لکھیں ہیں ۔(المنہاج  السوی  طبع  چہارم  ص228۔229ح 258،260۔ 261) 

یہ تین رویات اصول  حدیث  کی رو سے  ضعیف  ہیں ۔ دیکھئے  نورالعینین (ص 231۔234۔236)

ان میں سے پہلی  روایت  کے راوی  محمد  بن حنبل  ؒ  اس روایت  کے بارے  میں فرماتے ہیں :"هذا حديث منكر " یہ حدیث  منکر ہے ۔

( المسائل  : روایۃ  عبداللہ بن احمد ج1ص 242 ت327)

ابھی  تک  ماہنامہ  الحدیث  حضرواور نورالعینین  کی محولہ  تنقید  وجرح  کا کوئی  جواب ہمارے  پاس نہیں آیا۔والحمد للہ

خلاصۃ التحقیق : محمد  طاہر القادری  صاحب کی مسئولہ روایت  مذکورہ  بے سند  اور بے حوالہ  ہونے کی وجہ سے  بے اصل ،باطل  اور مردود  ہے۔وماعلینا الا البلاغ ۔ (9/ فروری  2007ء) (الحدیث:35)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج1ص362

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)