فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 13435
امام کے ساتھ مقتدی کا بھی تکبیرات انتقال پڑھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 October 2014 09:53 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے کیا مقتدی امام کے ساتھ تکبیر پڑھے گا یا نہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جی ہاں یہ تکبیرات جو ایک رکن سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتے ہوئے کہی جاتی ہیں امام اور مقتدی دونوں ہی کہیں گے۔فرق صرف اتنا ہے کہ امام بآواز بلند کہے گا جبکہ مقتدی آہستہ آواز سے کہے گا۔امام نووی فرماتے ہیں:

يستحب للإمام أن يجهر بتكبيرة الإحرام وبتكبيرات الانتقالات ليسمع المأمومين فيعلموا صحة صلاته ... وأما غير الإمام فالسنة الإسرار بالتكبير سواء المأموم والمنفرد (المجموع:3/418)

امام کے لئے مستحب ہے کہ وہ تکبیر تحریمہ اور تکبیرات انتقال کو بلند آواز میں کہے ،جسے مقتدی سن لیں اور اپنی نماز کی صحت کو جان لیں،جبکہ غیر امام کے لئے مسنون ہے کہ وہ سری طور پر یہ تکبیرات کہے ،برابر ہے کہ وہ مقتدی ہو یا منفرد ہو۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تکبیرات امام مقتدی اور منفر دتینوں ہی کہیں گے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)