فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13420
(600) تصوراتی گناہ پر پکڑ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 September 2014 04:25 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو گناہ تصور اتی  طور پر سر زد ہو  اور عملاً اس کا ارتکا ب نہ ہوا ہو  کیا وہ قا بل گر فت ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تصوراتی  گناہ پر گرفت نہیں اور اگر عزم و جزم  اور مصمم ارادہ  ہو چکا ہے تو گر فت  ہے حدیث  میں ہے ۔

«اذا التقي المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار» قيل:هذا القاتل فما يال المقتول ؟ قال:«انه كان حريصا علي قتل صاحبه»

قرآن میں ہے ۔

﴿أَن تَشيعَ الفـٰحِشَةُ...١٩﴾... سورة النور

نیز فرمايا;

﴿اجتَنِبوا كَثيرً‌ا مِنَ الظَّنِّ...١٢﴾... سورة الحجرات

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے مسئلہ ہذا پر نہایت  عمدہ انداز میں بحث  کی ہے  جو لا ئق  مطا لعہ  ہے ملا حظہ ہو ۔ (فتح الباری 11/327۔328)

حدیث  میں حرص  کو قا بل گر فت شمار کیا گیا ہے  جب کہ آیات  میں حب اور ظن پر  مواخذہ ہے یہ سب افعا ل قلوب  میں سے ہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص875

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)