فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13415
(595) گناہ اور جرم میں فرق
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 September 2014 02:33 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

گناہ اور جرم میں کیا فرق ہے ؟ کیا گنہگا ر  مجرم  بھی ہو سکتا ہے اور مجرم گنہگا ر بھی یا بالفاظ دیگر  کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک مجرم  گنہگا ر  نہ ہو اور ایک گنہگار مجرم نہ ہو ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گناہ ہر اس قول اور فعل کا نا م ہے جس کا مر تکب  گنہگا ر  ٹھہرے  علا مہ نواب  صدیق  الحسن  خاں  فر ما تے  ہیں ۔

«فلاثم کل فعل وقوله يوجب اثم  فاعله وقائله» (نيل المرام من  تفسير آيات الاحكام ص 190)

نیز مسند احمد وغیرہ میں حدیث  ہے ۔

«والاثم ماحاك في الصدر»

یعنی ہر وہ شئی  گناہ ہے جس کے کر نے سے دل  میں تر دد پیدا ہو شا ید کہ جائز نہ ہو ۔"

دوسری روایت  میں الفا ظ  یو ں ہیں ۔

«والاثم ماحاك في نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس» (مسلم  ترمذي وغيره)

یعنی " ہر وہ شے گناہ ہے جس کے ارتکا ب سے  تیرے  نفس میں کھٹکا  گزرے اور تو اس کو  مکروہ سمجھے ۔

کہ لو گ اس پر مطلع ہو ں ۔اور جہا ں تک لفظ جرم کا تعلق ہے اس کا اطلاق کفر اور عصیا ن  دونوں  پر ہو تا  ہے۔ تفسير الفتوحات الالهية3/79)

اور بعض دفعہ  دونوں  میں سے ہر ایک کا اطلا ق  دوسرے  پر ہو سکتا ہے اس میں کو ئی امر مانع نہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص871

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)