فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13408
(588) دھوکہ دے کر جانور مارنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 September 2014 01:34 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

چوہا مارنے کے لیے ایک آلہ (کڑکی یا پنجرہ )استعمال کیا جا تا ہے جس میں خو را ک  فرا ہم کی جا تی ہے ۔یا چوہے کو مارنے  کے لیے بعض دوائیں گو لیوں  کی شکل میں ملتی ہیں جس سے اس کی مو ت واقع ہو جا تی ہے سوال یہ ہے کہ اس میں دھو کہ دہی کا پہلو تو نہیں نکلتا جس سے آدمی پر گناہ  لا زم آتا ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چو ہے  کو ہر  ممکن  طریق سے ٍ ہلا ک کیا جا سکتا  ہے کیو نکہ  حدیث  میں اس کو فا سق قرار دیا گیا ہے ۔جو حل و حرم  میں  ہر صورت  مبا ح الدم  ہے ۔(عون المعبود 4/534)میں ہے

«ای لا حرمة لهن بحال»

یعنی "چوہوں کے ساتھ قطعاً نر می کا بر تاؤ نہیں کر نا چاہیے ۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص863

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)