فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 13404
(584) الکحل کی آمیزش والی دوائی استعمال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 September 2014 01:24 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی دوائی میں اگر الکحل  کی آمیزش  ہو تو ایسی دوائی  کا استعمال  جائز ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شراب سے تیا ر شدہ دوائی کا استعمال  مطلقاً ممنوع  ہے چا ہے علا ج معالجے  کے طور پر ہو یا غذائیت  حاصل کرنا مقصود ہو چنانچہ  صحیح مسلم میں حدیث  ہے ۔ طارق بن سو ید  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریا فت  کیا تو آپ نے اس کو منع کیا  اس نے عرض کی یا رسول اللہ! میں صرف دوائی  کے لیے شراب تیار کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :"وہ دوا نہیں بلکہ داء (بیما ری )ہے ۔"صحيح مسلم كتاب الاشربه باب تحريم التداوي بالخمر (٥١٤١)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص862

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)