فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13387
(567) رشتہ قائم کرنے میں اسلام کا تصور مذہب
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 September 2014 11:24 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایک شخص اگر خاندان میں اکیلا اہل حدیث ہواہو وہ انتظار کرے کہ اس کے معیار کے لوگوں میں رشتہ کرے۔کیا رشتہ داری کے لئے برہمن اور اچھوت اور شودر کا تصور اسلام دیتا ہے؟

اگریہ سب اسلام میں نہیں تو اہل حدیث میں یہ امراض کیوں ہیں۔اس کے خلاف  تحریک جو کہ صرف اہل حدیث کو چلانی چاہیے کیوں نہیں۔کیوں کہ جب تک معاشرہ میں ذات برادریوں اور پیشوں کا ہندوانہ زہر موجود ہوگا۔اسلام کو وہ انقلابی اثر نہ ہوگا۔میں پنجاب اور سندھ کے لوگوں کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے معاشرت کے لہاظ سے ان میں اور ہندووں میں فرق نظر نہیں آتا  جب کہ  عرب ممالک میں پیشے کو بالکل بُرا نہیں سمجھا جاتا کویت کے سفیر کے نام کے ساتھ ''النجار'' کا لفظ آتا ہے کئی مشہور لوگوں کے قبیلوں کا نام'' الحداد'' ہے مگر وہاں وہ کوئی گھٹیا شمار نہیں ہوتے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سائل کے جذبات بڑے صحیح اور ٹھیٹھ اسلامی ہیں۔کاش تمام مسلمان بالخصوص سب اہل حدیث انہی جذبات کے حامل اور ان کے تقاضوں سے عہدہ برآہونے کے اہل ہوجائیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص845

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)