فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13386
(566) اسلام میں ذات پات کی تقسیم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 September 2014 11:20 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسلام میں ذات پات کی کوئی تقسیم ہے؟نیز پیشے کی بناء پر اسلام میں عزت وشرف اور زلت او ررسوائی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام میں ذاتوں کی تقسیم ان معنوں میں تو موجود ہے کہ آپس میں جان پہچان کا ذریعہ بن سکے لیکن ایسی ذات جو  تفریق بین المسلمین کا سبب بنے اس کا وجود نہیں ہے آپس میں رشتے قائم کرنے کی بنیاد محض عقائدی اتفاق اور اخوت اسلامی ہونا چاہیے۔لوگوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کرکے اس بنیاد پر سلوک روا رکھنا ہندوانہ تصور ہے مدعیان کتاب وسنت کا اولین فرض ہے کہ معاشرہ میں موجود برائیوں اور قباحتوں کے خلاف جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص845

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)