فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13383
(563) جھوٹی کہانیاں پڑھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 September 2014 10:59 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا جھوٹی کہانیاں (جو کہ مختلف ڈائجسٹوں وغیرہ میں شائع ہوتی ہیں)پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جھوٹے قصے کہانیاں افسانے ڈرامہ ناول جنسی سنسنی خیز لٹریچر رسالے بے حیائی کے پرچار اخبارات اور جدید  ترین ایجادات ریڈیو ٹی وی وی سی آر ویڈیو فلمیں وغیرہ سے بے راہ روی کا درس لینا اپنی عاقبت کو خراب کرنا ہے۔قرآن مجید میں ہے:

﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ‌ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا ۚ أُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ ﴿٦﴾... سورة لقمان

''بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے  ہیں کہ بے علمی کیساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے  بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے رسو ا کرنے والا عذاب ہے۔''

قرآنی لفظ (لھو الحدیث) میں مذکورہ بالا سب چیزیں داخل ہیں۔''سیرۃ ابن ہشام'وغیرہ میں موجود ہے کہ نضر بن حارث کا کاروبار یہی تھا کہ وہ مکہ سے عراق وفارس وغیرہ جاتا۔وہاں سے شاہان عجم کے قصے اور رستم واسفند یار کی داستانیں لا کر قصہ گوئی کی محفلیں جماتا تاکہ لوگوں کی توجہ قرآن سے ہٹ جائے اور وہ قصے کہانیوں میں کھو جائیں مسئلہ ہذا پر سیر حاصل بحث کے لئے ملاحظہ ہوتفہیم القرآن 4/8 مولانا مودودی)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص841

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)