فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13331
(511) قسمیں کھانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 20 September 2014 09:14 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے کرا م اس مسئلہ میں کہ جھوٹی  قسم اٹھا کر نا حق  اور بے گناہ آدمیوں کو مجرم  بنا ئے جن کی سزا مو ت ہے اور 25ہزار روپے  لے کر سچی بات کہے اور اس کی اس حرکت کے با عث دیہات کے لو گ دھڑوں میں تقسیم ہو جا ئیں شر پیدا کر ے کیا ایسا امام مسجد امامت کے قا بل ہے اور اس کے پیچھے نماز ہو جا تی ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ صفات کے حا مل شخص کو فوراًامامت سے معزول کر دینا چاہیے دارقطنی میں حدیث «اجعلوا ائمتكم خياركم»یعنی "امام بہتر لو گو ں کو بنا یا کرو ۔

اسی طرح "مشکو ۃ المصابیح "میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک شخص کو قبلہ کی طرف تھوکنے پر امامت سے معزول کردیا تھا ۔مرقوم وجوبات کی بناء پر مذکورہ شخص بہت بڑا مجرم ہے اس کو فی الفور مصلا ئے امامت سے علیحدہ کردیا جا ئے اور اگر وہ زبردستی مصلا ئے اما مت  سے چمٹا رہے  اور متقدی ہٹا نے پر ۔زور دے رہے ہوں۔تو اس صورت میں مقتدی مجرم نہیں اور نہ ہی ان کی نمازمیں کوئی خلل آئے گا ان شاءا للہ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص805

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)