فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13329
(509) گزر گاہ کو گزرنے والے کے لیے تنگ کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 September 2014 09:52 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض لوگ جن کے مکا ن برسر بازار ہو تے ہیں وہ اپنے مکا ن یا دوکا ن کے سامنے بازار  یا سڑک کی زمین پر تجاوز کر کے اپنا قبضہ کر لیتے ہیں جس سے بازار یا گزر گا ہ  عام کو تنگ کر دیتے  ہیں ایسے  ہی بعض لو گ گلیوں میں بھی اپنے مکان کے سامنے  تھڑایا دوسری قسم کی کوئی رکاوٹ بنا کر گلیوں کو تنگ  کر دیتے ہیں ان کے لیے شر یعت میں کیا حکم ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت اسلامیہ کے واضح نصوص اور ہدایت میں عا مۃ الناس کو اذیت  پہنچانے یا اس کا ذریعہ اور سبب بننے سے منع کیا گیا ہے بلکہ وہ لو گ جو اللہ کے بندوں سے ازالہ تکا لیف   کے لیے کو شاں رہتے ہیں ان سے بخشش اور مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے ۔

چنانچہ صحیح روایت میں ہے ایک شخص نے راستہ  سے خاردار ٹہنی ہٹا دی اس کے صلہ میں رب العزت نے اس کو معا ف کر دیا۔فشكر الله فغفرله

(بخاری مع فتح الباری :5/118)

اسی طرح دوسری حدیث میں لو گو ں سے اماطة الاذي(رفع تکالیف) کو ایمان کی شاخوں میں شمار کیا گیا ہے ۔(بخاری مع فتح الباری :114)

نیز حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے عرض کی ۔

«يا رسول الله صلي الله عليه وسلم  دلني علي عمل انتفع به ‘قال  «اعزل الازي عن طريق المسلمين» (مسلم)

"اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے نفع بخش عمل سے آگاہ کیجیے !فرمایا مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹا دے ۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ عام گزر گاہوں راستوں اور سڑکوں وغیرہ کو اذیت رساں اشیاء سے صاف ستھرا رکھنا باعث اجر اور ثواب ہے اور لوگ ان کو تنگ و تا ریک کر نے کی سعی میں شر یک  و سہیم ہیں ظاہر ہے کہ ان کا معا ملہ اول الذکر گروہ کے بر عکس ہو گا جو مقام خطر  اور و بال جان بن سکتا ہے ۔لہذا ہر مسلما ن کو چا ہیے ہ عا م حالات میں متعینہ فاصلہ چھوڑ کر جگہ میں اضا فہ اور تجاوزات پر ممکنہ حد تک غور فکر کرے  بصورت دیگر اس کا یہ فعل  قا بل مؤاخذہ ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص803

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)