فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13308
(489) اسلام میں بیعت کی حیثیت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 September 2014 04:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

٭اسلام میں بیعت  کی کیا حیثیت  ہے ؟

٭ڈاکٹر  اسرار  کی بیعت  شر عی نقطہ  نظر  سے کیسی  ہے ؟

٭تبلیغی  جما عت کی بیعت  شر عی  نقطہ نظر  سے کیسی  ہے ؟

٭پیر بھا ئیوں  کی بیعت  شر عی  نقطہ نظر  سے کیسی ہے ؟

٭آج کے دور  میں کس کے ہا تھ پر بیعت کی جا ئے نیز بتا ئیں  کہ بیعت  کن مو قعوں  پر کی جا تی ہے  اور  کس کے ہا تھ  پر کی جا تی ہے ؟

٭آیا جب  ہم نے کلمہ پڑھ لیا ہے تو کیا  کسی کا بیعت  ہو نا ضروری ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ڈاکٹر  اسرار  اور تبلیغی  جما عت  اور پیر بھا ئیوں  کی مرو جہ  بیعت  بدعت ہے شر یعت  میں اس کا کو ئی  ثبوت  نہیں  بیعت  کا تعلق  صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات  یا اس  کے قائمقام  سے ہو تا ہے صاحب  اقتدا ر خلیفہ  کے ہا تھ  پر بیعت  ہو تی ہے جو کتا ب  وسنت  کا داعی ہو مو جو د ہ دور  میں سعودی عرب  کے سر براہ  مملکت  کی بیعت  ممکن ہے خلیفہ  وقت  جب مناسب  سمجھے  حالا ت  کے مطا بق  بیعت  کر سکتا ہے کلمہ  پڑھنے  کے بعد  اپنے  رب العزت  سے شر یعت کی پا بندی  کا صرف عہد  ہی کا فی  ہو سکتا ہے کسی  سے بیعت  کرنا ضروری نہیں قرآن میں ہے ۔

﴿وَمَن أَوفىٰ بِعَهدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاستَبشِر‌وا بِبَيعِكُمُ الَّذى بايَعتُم بِهِ ۚ وَذ‌ٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ ﴿١١١﴾... سورة التوبة

"اور اللہ سے زیادہ وعدہ پو را کرنے والا کو ن ہے ؟سو جو سودا تم نے اس سے  کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی  کا میا بی  ہے ۔

قصہ ثما مہ  بن اثال عدم بیعت  کی واضح  دلیل ہے ۔ صحيح بخاري كتاب المغازي باب وفد بني حنيفة (٤٣٧٢)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص774

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)