فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 1328
ظفر نام رکھنا
شروع از بتاریخ : 26 June 2012 03:12 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ظفر نام رکھنا کیسا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسے نام کہ جن کے بارے میں غلط فہمی یا کسی نہ کسی پیرائے میں غلط مطلب بنتا ہو ۔نبیﷺ نے ایسے نام رکھنے سے منع کیا ہے۔

سیدنا سمرہ بن جندب کہتے ہیں:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تسم غلامک رباحا ولا یسارا ولا أفلح ولا نافعا۔(صحیح مسلم :2136)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ تم اپنے بچوں کا نام افلح، رباح، یسار اور نافع نہ رکھو‘‘

سیدنا سمرہ بن جندب کی دوسری تفصیلی روایت میں یوں ہے کہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کو چار کلمات سب سے زیادہ پسند ہیں سبحان اللہ ، الحمدللہ، لاإلہ إلا اللہ او راللہ اکبر۔ ان میں سے جس کو چاہے پہلے کہے کوئی نقصان نہ ہوگا اور اپنے بچوں کے نام یسار (آسانی والا) رباح (کامیابی)نجیح (نجات پانے والا) أفلح (فلاح پانے والا) نہ رکھو اس لیے کہ تو پوچھے گا کہ وہ وہاں (یعنی یسار یا رباح یا نجیح یا أفلح) موجود ہے اور وہ وہاں نہیں ہوگا تو وہ کہے گا نہیں ہے۔‘‘ (صحیح مسلم :2137)

گو یا ایسا نام کہ جس میں جواب دیتے وقت منفی پہلو نکلتا ہو جیسے کوئی پوچھے کہ گھر میں ظفر ہے؟ تو ان کے گھر والے کہہ دیں ظفر گھر میں نہیں ہے گویا گھر میں کامیابی نہیں ہے لہٰذا اس فقرہ اور پہلو سے بچنے کے لیے اس طرح کے ناموں کا انتخاب کرنا چاہیے جن سے کوئی منفی پہلو نہ نکلتا ہو۔

لیکن یاد رہے کہ اگر ظفر کے ساتھ کوئی لاحقہ، سابقہ لگا دیا جائے یعنی مرکب نام ہو تو اس کا منفی پہلو ختم ہوجاتا ہے جیسے ظفر احمد، یسار احمد کیونکہ جب کوئی جواب دے گا تو بولنے والے نے ظفر احمد بولاہوگا نہ کہ اکیلا ظفر۔ واللہ اعلم

وبالله التوفيق

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)