فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13235
(417) انجکشن لگا کر بھینس کا دودھ دھونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 September 2014 10:51 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

انجکشن لگا کر بھینس گائے وغیرہ سے دودھ حاصل کرنا (دوہنا)جائز ہے یا حرام ؟دلیل کے ساتھ وضاحت کریں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بوقت ضرورت انجکشن کے ذریعہ  بھینس گائے وغیرہ کے دودھ کوحاصل کرنے کا جواز ہے بشرطیکہ مالک نے جانور کوچارہ  کاحق پورا اداکیا  ہو کتب احادیث  میں موجود ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اونٹ نے شکایت کی تھی کہ مالک چارہ کم دیتا  ہے اور کام زیادہ لیتا ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مالک کو تنبیہ فرمائی تھی ۔ملاحظہ ہو۔(مشکوۃ باب المعجزات)

اس وقعہ سے معلوم ہوا کہ حق کی ادائیگی کی صورت میں انسان ہر ممکنہ صورت میں جا نور سے اپناحق وصول کرسکتا ہے کیونکہ دودھ جوانسانی خوراک  کا اہم ترین جز ہے قرآن مجید میں رب العزت  نےاسے بطور امتنان واحسان بیان فرمایا ہے :

﴿ وَإِنَّ لَكُم فِى الأَنعـٰمِ لَعِبرَ‌ةً ۖ نُسقيكُم مِمّا فى بُطونِهِ مِن بَينِ فَر‌ثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خالِصًا سائِغًا لِلشّـٰرِ‌بينَ ﴿٦٦﴾... سورة النحل

"اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی مقام عبرت وغور ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور خون ہےاس کے درمیان  سے ہم تم کوخالص دودھ پلاتے ہیں جوپینے والوں کے لیے خوشگوار ہے ۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص714

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)