فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13233
(415) اپنی زندگی میں ہی جسم کے اعضاء وقف کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 September 2014 10:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اپنی زندگی میں اپنے جسمانی اعضاء وقف کرجا نا مثلاً میری آنکھیں گردے وغیرہ میرے مرنے کے بعد ان اعضاء سے محروم لوگوں کولگا دیئے جا ئیں  آیا جائز ہے ۔؟

جب کہ مردے کے اعضاء اس کے کسی کام کے نہیں وہ مٹی میں مٹی ہوجائیں گے جب کہ دوسری طرف ایک جان کو فائدہ ہوجائے گا ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسانی اعضاء اللہ کی امانت ہیں انسان کوان میں تصرف کاختیار نہیں اسی بناء پر خود کشی حرام ہے اعضاء کی منتقلی سے دوسرے کوفائدہ پہنچاناغیر درست ہے کیونکہ میت کو گزند پہنچانا کبیرہ گنا ہ ہے یہاں تک کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر بیٹھنے تکیہ لگانے سے منع فرمایا ہے اس سے میت کا احترام مقصود ہے ایک حدیث میں ہے ۔

«ان کسر عظم الميت ككسره حيا يعني في الاثم»

یعنی "گناہ میں میت کی ہڈی توڑنا اس طرح  ہے جس طرح زندہ کی توڑناہے۔ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ  ابن ماجہ ابن القطان  نے کہا اس کی سند حسن درجہ کی ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص713

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)