فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13232
(414) بچوں کی پیدائش میں وقفہ کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 September 2014 10:30 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اولا د میں 2یا3سال کا وقفہ کرنے کا اقدام کیسا ہے ؟جب کہ نیت یہ ہو کہ بچے کی تر بیت بہتر ہو جا ئے اور صحت بھی اتنی مشقت اٹھا نے کی ہے سال متحمل نہ ہو؟ کیونکہ  آج کل قدرتی وقفہ بالکل نہیں ہوتا ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کی صحت کے پیش نظر اولاد میں عارضی وقفہ کا جواز ہے کیوں کہ اسلام نے کراہت کے ساتھ بوقت ضرورت عزل (بوقت انزال  علیحدہ ہوجانا )کی اجازت دی ہے فرمایا :

«كنا نعزل والقرآن ينزل» (متفق عليه) وزاد مسلم : «فبلغ ذلك النبي صلي الله عليه وسلم فلم ينهنا» صحيح البخاري كتاب النكاح باب العزل (5208-5207) صحيح مسلم كتاب النكاح باب حكم العزل (٣٥٥٦-الي ٣٥٥٩)

یعنی"ہم اس دور میں عزل کرتے جب کہ قرآن اترتاتھا "یہ روایت بخاری اور مسلم کی ہے اور مسلم نے یہ الفاظ زیادہ کئے ۔پس اس کی خبر  نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو پہنچی تو ہم کو منع نہ کیا ۔"

اسی طرح دیگر عارضی اختیار کرنے کا بھی بظاہر کو ئی حرج نہیں بشرطیکہ عورت کی کمزوری پیش نظر ہومسئلہ ہذا پر تفصیلی  گفتگو  پہلے "الا عتصام "میں شائع ہوچکی ہے (جلد 46شمارہ44)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص713

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)