فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13230
(412) مخلوط تعلیمی نظام میں پڑھانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 September 2014 10:23 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مو جود ہ حالات میں جب  کہ یونیورسٹی اور کالج  میں مخلوط تعلیم  کا رواج ہے کسی اہل حدیث کے لیے ان مخلوط  اداروں میں تعلیم حاصل  کرنے یا پڑھانے میں گناہ  تو نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فہم و بصیرت  سے بہرہ ور اور شرعی احکا م  ومسائل سے واقف  کار انسان  کے لا ئق نہیں کہ اپنی  اولا د کو مخلوط اداروں میں تعلیم  دلا ئے دراصل ایسے ادارے قوموں  کی تعمیر  و ترقی  میں حصہ  دار بننے کے بجا ئے اخلا قی بگاڑ  اور شیطانی  معاونت کے مؤثر ترین ہتھیار  ہیں جن کے نتائج  وثمرات  اخلا قی پستی  کی صورت میں ظاہر ہونا ایک لا زمی  امر ہے بہر صورت  دین  وایمان  کی سلا متی  کی خاطر  ان سے بچنا ضروری ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص712

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)