فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13224
(406) محنت کرکے روزی کمانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 September 2014 09:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن شریف میں آیا ہے خزانے  اللہ کے پا س ہیں  بقدر ضرورت ۔الخ لیکن  کیا اللہ کی رضا اسی میں ہے کہ وقت کا انتظار  کیا جا ئے اور معاشی  تکلیف  کو برداشت  کیا جا ئے  خوب محنت  کی جا ئےا اور نتیجہ  اللہ پر چھوڑ ا جا ئے ؟ مگر ایسا کرنے  والے کو لوگ دنیا  دار  کہتے ہیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن نے رفتہ رفتہ  روزی دینے کی وجہ یوں  بیان فرمائی ہے ۔

﴿وَلَو بَسَطَ اللَّهُ الرِّ‌زقَ لِعِبادِهِ لَبَغَوا فِى الأَر‌ضِ وَلـٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ‌ ما يَشاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبادِهِ خَبيرٌ‌ بَصيرٌ‌ ﴿٢٧﴾... سورة الشورىٰ

"اور اگر اللہ  اپنے  بندوں  کے لیے رزق میں فراخی  کردیتا  تو وہ زمین میں فساد  کر نے  لگتے  لیکن وہ جو کچھ  چاہتا ہے انداز ے کے ساتھ  نازل  کرتا ہے  بے شک  وہ اپنے  بندوں کو جا نتا اور دیکھتا ہے۔ لیکن شریعت کی نگا ہ میں کسب حلا ل کی صورت  میں محنت  کرنا باعث  اجرو ثواب  ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص709

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)