فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13200
(382) اسرائیل کے نقشے میں مدینہ منورہ؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 September 2014 10:46 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علما ءدین اس مسئلہ کے بارے میں کہ خلیج عرب میں امریکہ اور اس کے حواری ممالک کی افواج چھ سال قبل عراق کو یت جنگ کے حوالے سے آئی تھیں اور ان کی آمد کامقصد صرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کاتحفظ اور دفاع بتایا گیا تھا  عراق کو یت جنگ کو ختم ہوئے چھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر یہ افواج نہ صرف ابھی موجو د ہیں بلکہ امریکہ راہنماؤں کی طرف سے کہا جارہاہے کہ یہ فوجیں امریکی  مفادات کے تحفظ کے لیے خلیج میں مو جو د ہیں اور وہ واپس نہیں جائیں گی

اسرائیل نےامریکی  پشت پناہی کے ساتھ بیت المقدس اور فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور اب اس کی طرف سے مستقل کے "عظیم تراسرائیل "کاجونقشہ پیش کیا گیا ہے اس میں دیگر ممالک کے ساتھ "مدینہ منورہ"کوبھی اسرائیل کاحصہ دکھایا گیا ہے اور اسرائیل  "حرم مدینہ "پر قبضے کاخواب دیکھ رہاہے اس پس منظرمیں خلیج میں امریکہ کی افواج کی مسلسل موجود گی اسرائیل کے لیے تقویت کاباعث ہے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کامشہورارشاد گرامی ہے :"جزیرہ عرب سے یہود نصاریٰ کونکال دو" اورخلیج میں امریکی افواج کی موجود گی میں اس ارشاد مقدس کی صریح خلاف ورزی ہے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

موجود ہ حالات  میں مسلما نان عالم کافرض ہے کہ باہمی اتفاق واتحاد سے ہر ممکن طریقے سے یہود ونصاریٰ پر مشتمل امریکی افواج کوجزیرہ عرب سے نکالنے کی سعی کریں سستی اور کاہلی کی صورت  میں تما م ذمہ داران رب العالمین کی عدالت عالیہ میں جواب دہ ہوں گے ۔اللہ رب العزت ہمیں فہم وبصیرت سے بہرورفرمائے تاکہ اپنی آخرت کاتحفظ کرسکیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص686

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)