فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13193
(374) فتوی دینے کی فیس طلب کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 September 2014 09:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب کسی مفتی صاحب سے شرعی احکا م کے متعلق  فتوی لیا جا تا ہے تو وہ دینے سے پہلے اپنی ذات مدرسہ کے نا م مقررہ فیس لے کر فتویٰ دیتے ہیں کیا ایسا کر نا صحیح ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرات مفتیان کرام کا شرعی فتویٰ پر عام حالات میں فیس وصول کرنا مستحسن فعل نہیں ہاں البتہ اگر کو ئی اپنی مر ضی سے یا مدرسہ یا ادارہ وغیرہ کی خدمت کر دے تو منع بھی نہیں ہے ۔

﴿وَما تُقَدِّموا لِأَنفُسِكُم مِن خَيرٍ‌ تَجِدوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيرً‌ا وَأَعظَمَ أَجرً‌ا ۚ وَاستَغفِرُ‌وا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ‌ رَ‌حيمٌ ﴿٢٠﴾... سورة المزمل

اسی طرح اگر کو ئی مفتی صاحب  محتاج ہوں تو وہ بھی قاضی  پر قیاس  کر تے ہو ئے حق  خدمت  وصول کر نے  کے مجا ز ہیں چنانچہ صحیح بخا ری کے ترجمۃ الباب میں ہے ۔

'' وکان شریح القاضی یاخذ علی القضاء اجرا وقالت عائشة :ياكل الوصي بقدر عمله واخذ ابو بكر وعمر ’’

"قاضی شریح قضاء پر اجرت لیتے تھے  اور حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں "وصی"اپنی محنت کے بقدر رقم وصول کر سکتا ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہ حق وصول کیا ہے ۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص641

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)