فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13189
(367) تامرگ بھوک ہڑتال کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 September 2014 03:26 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تامرگ بھوک ہڑتال کرناسلام میں جائز ہے یا ناجائز ؟

(1)اور اگر کرناجائز ہے تواس کی شرعی سزاکیا ہے ؟

(2)تامرگ بھوک ہڑتال کرنے والے کی حمایت کرناجائز ہے یا ناجائز ؟

(3)اگر ناجائز ہے تو اس کی سزاکیا ہوگی ؟

(4)علما ئے کرا م کاتامرگ بھوک ہڑتال کے بارے میں خاموشی اختیار کرناکیساہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تامرگ بھوک ہڑتال کرناغیر اسلامی تصور اوراللہ کی رحمت سے یاس اور ناامیدی کی  کی عکاسی کرتا ہے ۔ایک مومن کے لا ئق نہیں ہے کہ لمحہ بھربھی اپنے محسن اعظم اللہ ربالعزت سے درگردانی کر کے تعلق  منقطع کر ے  نفع و نقصان  اور خیرو شرسب اسی کے ہاتھ میں ہے ۔

کائنات کے فہیم ترین انسان حضرت عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا :

'' اعلم ان الامة لو اجتمعت علي ان ينفعوك بشئي لم ينفعوك الا بشئي قد كتبه الله لك ولو اجتمعوا علي ان يضروك بشئي لم يضروك الا بشئي قد كتبه الله عليك رفعت الاقلام وجفت الصحف ’’ (رواہ ترمذی وقال: حدیث حسن صحیح)

یعنی "سب لو گ جمع ہو کر اگر کو ئی بھلائی پہنچاناچا ہیں توصرف اسی قدر دے سکتے ہیں جوکچھ اللہ نے تیرے لیے لکھا ہے اور اگر سب لو گ جمع ہو کر تجھے نقصان پہنچانا چاہیں تو صرف اس قدر پہنچاسکتے ہیں جو تیرے مقدر میں ہے  قلمیں کتا بت سے فارغ ہو چکیں اور صحیفے خشکی کا مظہر ہیں اوردوسری روایت میں ہے :

'' احفظ اللہ تجدہ امامك تعرف الي الله في الرخاء يعرفك في الشدة ’’ (صححه احمد شاكر احمدو طبراني في الكبير (١١/100) (١١٢٤٣)

یعنی"اللہ سےتعلق پیدا کرتواسے سامنے پائے گا آسانی میں اس سے راہ  ورسم پیدا کردہ سختی میں تجھے پہچان لے گا ،

قرآن مجید نے حضرت یعقوب  علیہ السلام  کا قول بایں  الفاظ نقل کیا ہے ۔

﴿يـٰبَنِىَّ اذهَبوا فَتَحَسَّسوا مِن يوسُفَ وَأَخيهِ وَلا تَا۟يـَٔسوا مِن رَ‌وحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لا يَا۟يـَٔسُ مِن رَ‌وحِ اللَّهِ إِلَّا القَومُ الكـٰفِر‌ونَ ﴿٨٧﴾... سورة يوسف

"بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر )جاؤاور یوسف اور ان کے بھا ئی کوتلاش کرو اوراللہ کی رحمت سےناامیدنہ ہوکہ اللہ کی رحمت سے بے ایمان  لو گ  ناامید ہوا کر تے ہیں ۔"دوسری جگہ فرمایا:

﴿أَمَّن يُجيبُ المُضطَرَّ‌ إِذا دَعاهُ وَيَكشِفُ السّوءَ وَيَجعَلُكُم خُلَفاءَ الأَر‌ضِ ۗ أَءِلـٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَليلًا ما تَذَكَّر‌ونَ ﴿٦٢﴾... سورة النمل

"بھلاکو ن بے قرار کی التجا قبو ل کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کو ن اس کی ) تکلیف کودور کرتا ہے (کون )تم کو زمین میں (اگلوں کا)جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے )

توکیا اللہ کے ساتھ کو ئی اور بھی معبود ہے (ہرگز نہیں )۔نیز فرمایا :

﴿وَلا تُلقوا بِأَيديكُم إِلَى التَّهلُكَةِ ۛ...﴿١٩٥﴾... سورة البقرة

نیز مصائب و مشکلات سے نجا ت حاصل کرنے کے لیے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم طریقہ کا ر یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں منہمک ہو جاتے تھے ۔

ان نصوص صریحہ سےمعلوم ہوا کہ ہر حالت میں اعتماد بندوں کے بجا ئے صرف اللہ کی ذات پر ہونا  چاہیے کلمہ :

’’ لا حول ولا قوة الا بالله ’’

کامفہوم بھی یہی ہے : اوراگر کو ئی ناعاقبت اندیش اس حالت میں مر جاتا ہے تو اس نے علیٰ وجہ البصیرت جہنم کا مہنگا سوداکیا ہے اہل اصول فرماتے ہیں:

’’ من تعجل بشئي ء قبل اوانه عوقب بحرمانه ’’

دوسرے لفظوں میں اس فعل کا نام خود کشی  بھی رکھا جاسکتا ہے جس کی وعید کے بارے میں کتا ب وسنت میں بے شمار نصوص ملا حظہ کئے  جا سکتے ہیں ۔ بہر صورت فعل  ہذا کے ارتکاب سے اجتناب  ایک ضروری امرہے اس لیے کہ انسانی جسم چو نکہ  اللہ کی اما نت  ہے لہذا اس کی حفاظت  بذمہ  انسا ن  ہے ارشا د  بار ی  تعا لیٰ ہے :

﴿وَلا تَقتُلوا أَنفُسَكُم ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُم رَ‌حيمًا ﴿٢٩﴾... سورة النساء

"اور اپنے  آپ کو ہلا ک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہر بان ہے ۔"

ذمہ داران سے مطالبات تسلیم کرا نے کی بیسوں شکلیں ہیں کسی بھی مباح شکل کوبطور تدبیر اختیار کیا جا سکتا ہے۔

«بيده الخير انه علي كل شئي قدير»

علماء پرضروری ہے کہ منکر کا انکا ر کر یں تاکہ فعل تقصیر سے بری الزمہ قرار پائیں ۔(واللہ ولی التوفیق )

مرتکب کی شر عی سزا صرف نائب ہونا ہے ۔

’’ التائب من الذنب كمن لا ذنب له ’’
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص638

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)