فتویٰ نمبر : 13180
(358) منکرین حدیث کے اعتراضات
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 September 2014 02:52 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محترم  عرض  ہے کہ "الاعتصا م " نو مبر اور دسمبر 1990ء کے شمارہ جا ت  میں جنا ب  حا فظ  زبیر  علی  زئی  صاحب  کا مضمو ن "فتنہ  انکا ر حدیث" شائع  ہوا تھا  منکر ین  حدیث  کے چند  اعترا ضا ت   نے آج  کل  خود  مجھے  اور مجھ  جیسے  کئی  طالب  علموں  کے ذہنوں  میں خلجا ن  پیدا  کر رکھا  ہے ان کے اعترا ضات  درج ذیل  ہیں :

حدیث  شریف  میں ہے  کہ ما ں  کے پیٹ  میں کیا ہے ؟ لڑکی  یا لڑکا  ہے ؟ اس کے با رے  میں کو ئی  نہیں بتا سکتا یا کو ئی نہیں جا نتا  اس کا علم  صرف اللہ  کو ہی ہے  جب کہ مو جو د  وقت میں سا ئنس نے یہ ثا بت  کیا ہے کہ انسان  معلو م  کر سکتا  ہے کہ  لڑکی  ہے  یا لڑکا  ہے بلکہ یہاں  تک  وہ کہتے  ہیں مرد چا ہے  تو لڑکی  پیدا  کر یں  یا لڑکا  پیدا کر یں  ظا ہر  ہے  یہ تو نہ ہو نے والی بات تھی  مگر  اب ممکن  ہو گیا ہے کیا  کہتے  ہیں علما ئے  کرا م  اس کے بارے  میں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث میں لڑکے  اور لڑکی کا ذکر  نہیں  بلکہ قرآن  وحدیث  میں (مافی الارحا م )کے الفا ظ  وارد ہیں جو  رحم  کی فطرتی  اور بنیا دی  تمام صلاحیتوں اور شکلوں  کو حا وی  ہے چا ہے  کو ئی عورت شادی شدہ ہو یا نہ ہو مقدر  شکل کے معرض  وجو د  میں آنے  سے قبل  اللہ رحم  پر مو کل  فرشتے  کو آگاہ  فرماتے  ہیں  پھر  بہت  بعد  میں  ڈاکٹروں کو معلوم  ہو تا ہے  تو بتائیے  اس میں انسانی  ترقی  کا کیا کما ل  ہے ؟

اس سے معلو م ہوا کہ ڈاکٹری  علم شرعی  نصوص  کے منا فی  نہیں  لڑکا یا لڑکی  پیدا  کرنا مرد  کے اختیار میں نہیں  بلکہ یہ سب  کچھ  اللہ کے حکم  سے ہوتا ہے  رحم  پر مقرر  فرشتہ  بھی رب العزت  سے دریا فت  کرتا  ہے :

(اذكر ام انثيٰ)یہ لڑکا  بنے گا یا لڑکی ؟

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص631

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)